مولانا آزادؒ فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا سا تھا تو گھر میں والد صاحب کا عمامہ پڑا ہوا تھا، میں کیا کرتا! اپنی بہنوں کو اکٹھا کر لیتا اور اپنے سر پہ اپنے والد کا عمامہ رکھتا اور بڑی شان سے اکڑ کے چلتا اور بہنوں کو کہتا: ’’ہٹو! راستہ دو، دہلی کے مولانا آ رہے ہیں‘‘
اس لیے کہ بچپن میں میں نے سنا ہوا تھا کہ دہلی میں کوئی بڑے مولانا رہتے ہیں، پھر میں اپنی بہنوں کو کہتا کہ تم لوگ میرا استقبال کرو اور استقبال میں تم نعرے لگاؤ! اب بہنیں کہتیں کہ ہم کیوں نعرے لگائیں؟ اس لیے کہ مولانا جو آ رہے ہیں، تو وہ کہتیں کہ مولانا کے استقبال کے لیے تو ہزاروں لوگ ہوتے ہیں، ہم تو دو ہیں، تو وہ کہتے کہ نہیں تم یونہی سمجھ تو کہ تم ہزار ہو اور میرا استقبال کر رہے ہو، لہٰذا تم نعرے لگاؤ۔اب چھوٹا سا بچہ! دیکھو! اپنی بہنوں کے ساتھ کس طرح اس بات پر کھیل رہا ہے۔ان کی ایک بڑی بہن تھی، ایک مرتبہ اس نے بچپن میں ان کو کوئی کام کہا، انہوں نے نہ کیا، ضد کر گئے، تو بڑی بہن خفا ہوئی اور اس نے اپنے والد کو کہا کہ ابو! یہ ہمارے بچے تو بالکل سڑے ہوئے انڈوں کی طرح ہیں، جب بہن نے کہا کہ یہ تو سڑے ہوئے انڈوں کی طرح ہیں تو انہوں نے اسی وقت اپنے منہ سے ’’چوں چوں‘‘ کی آواز نکالنی شروع کر دی اور کہا کہ اگر انڈے سڑے ہوئے ہوتے تو اس میں سے یہ مرغی کے بچے کیسے نکلتے؟ اب چھوٹا بچہ ہے، دیکھو! وہ اپنی بہن کی بات پر کیا ردعمل دکھا رہا ہے؟



















































