ہمارے ایک دوست کسی عالم کے گھر گئے انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو جن کی عمر آٹھ یا نو سال تھی ان کی خدمت میں لگا دیا، وہی ان کا بڑا بیٹا تھا وہ بچہ اتنا سلیقہ مند تھا کہ جب اس مہمان کے سامنے دستر خوان لگاتا برتنوں کے کھٹکنے کی آواز نہیںآتی اتنے پیار سے وہ برتن رکھتا اور اٹھاتا، اتنے سلیقے سے کام کرتا کہ ہمارے وہ دوست اتنے متاثر ہوئے جب وہ نہانے کے لیے جاتے باہر نکلتے تو ان کے جوتے پالش ہیں،
ان کے کپڑے استری ہیں، ہر چیز ان کی موقع بموقع تیار ہوتی وہ حیران ہوتے کہ چھوٹے سے بچے کو خدمت کا ایسا ڈھنگ کس نے سکھایا، چنانچہ ان کا جی چاہا کہ میں بچے سے بات کروں، لیکن بچہ ان کے پاس آتا اور جو ضرورت کی چیز ہوتی وہ رکھتا اور فوراً واپس چلا جاتا فالتو کچھ دیر بھی ان کے پاس نہیں بیٹھتا تھا، انہوں نے سوچا کہ اب اگر آیا تو میں اس سے پوچھوں گا کہ ماں باپ نے اس کی تربیت کیسے کی، وہ فرماتے ہیں کہ جب بچہ اگلی مرتبہ میرے پاس آیا اور اپنا کام کرکے جانے لگا تو میں نے اسے روکتے ہوئے کہا کہ بچہ تم سب سے بڑے ہو مقصد میرا پوچھنے کا یہ تھا کہ اولاد میں یہی پہلا بیٹا تھا تو میں نے ان سے یہ پوچھا کہ بچے تم سب سے بڑے ہو تو جیسے میں نے پوچھا وہ بچہ اتنا پیارا تھا اتنا مودب تھا کہ وہ میری بات سن کر تھوڑا سا شرما سا گیا، پیچھے ہٹا اور کہنے لگا انکل سچی بات تو یہ ہے کہ اللہ سب سے بڑے ہیں، ہاں بہن بھائیوں میں میری عمر زیادہ ہے، وہ کہنے لگے مجھے شرم کی وجہ سے رونا آ گیا کہ عمر میں میں اتنا بڑا ہوں اور میں اس نقطے تک نہ پہنچ سکا اور اس بچے کی سوچ کتنی اچھی ہے اس نے پوائنٹ پک اپ کر لیا میرا فقرہ تھا کہ تم سب سے بڑے ہو بچہ جواب دیتا ہے کہ انکل اللہ سب سے بڑے ہیں ہاں بہن بھائیوں میں عمر میری زیادہ ہے۔



















































