ایک آدمی کے یہاں اولاد نہیں تھی وہ مکہ مکرمہ میں رہتا تھا بڑی دعائیں مانگتا تھا کسی نے اسے کہا کہ مقام ابراہیم پر جا کر دعائیں مانگو، اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد عطا فرما دیں گے، لیکن اس بے چارے کو یہ سمجھ نہیں تھی کہ میں نے نیک اولاد مانگنی ہے، چنانچہ وہ مقام ابراہیم پر گیا اور وہاں جا کر اس نے دو رکعت نفل پڑھ کر کھڑے ہو کر دعا مانگی،
اے اللہ مجھے بیٹا دے دے اب چونکہ بیٹا کی دعا مانگی اللہ نے دعا تو قبول کر لی لیکن بیٹا نافرمان نکلا، جیسے ہی اس نے جوانی میں قدم رکھا اس نے عیاشی والے کام کرنے شروع کر دیے، لوگوں کی عزتیں خراب کرنے لگا، ماحول کے اندر معاشرے کے اندر اس کی وجہ سے بہت پریشانی آ گئی لوگ اس کو برا سمجھتے اور اس کی وجہ سے ماں باپ کو بھی برا کہتے، حتیٰ کہ اس نوجوان نے ایسے بدمعاشی کے کام کیے کہ ماں باپ کانوں کو ہاتھ لگاتے، باپ بڑا پریشان ہوا بچے کو سمجھاتا، اس کے کان پر جو نہ رینگتی، اس کو تو جوانی کا نشہ چڑھا ہوا تھا، وہ بات کو ایک کان سے سنتا اور دوسرے کان سے نکال دیتا بری صحبت میں پڑ چکا تھا، برے کاموں کی لذت اس کو پڑ چکی تھی، اس لیے وہ اپنی مستیوں میں لگا رہتا اب جتنا بھی سمجھاتا بچہ بات ہی نہ سنتا، حتیٰ کہ باپ نے ایک دن اس کو بلا کر اچھی طرح ڈانٹا تاکہ اس کو کچھ تو سمجھ آئے اب سوچئے باپ نے ڈانٹ پلائی سمجھانے کی خاطر، اصلاح کی خاطر، لیکن نوجوان آگے سے غصے میں آ گیا، کہ تم نے مجھے ایسی ایسی باتیں کیں اور وہ وہاں سے نکلا اس نوجوان نے بھی سنا ہوا تھا کہ فلاں جگہ جا کر دعائیں کریں تو قبول ہوتی ہے غصے میں آ کر وہ نوجوان بیت اللہ شریف کی طرف آیا اور مقام ابراہیم پر جہاں سے پہلے باپ نے بیٹے کے پیدا ہونے کی دعائیں کی تھیں، اسی جگہ پر کھڑے ہو کر نوجوان نے اپنے باپ کے مرنے کی دعا کی۔



















































