امریکہ کے ایک صاحب نے کئی سال بعد گھر واپس آنے کا پروگرام بنایا، شیطان نے اس کے ذہن میں یہ تجویز ڈالی کہ اہل خانہ کو اطلاع نہ دو، اچانک پہنچ کر حیران کرو، چنانچہ انہوں نے جہاز کا ٹکٹ خریدا، دفتر سے چھٹی لے کر پاکستان پہنچے، اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے استقبال کے لیے تو کوئی نہیں تھا، ان صاحب نے ٹیکسی کرایہ پر لی، چونکہ گھر شہر سے چند میل دور تھا اہل خانہ کے لیے تحفے تحائف وغیرہ خرید کر لائے تھے تو سامان کافی زیادہ تھا،
انہیں اکیلا دیکھ کر سامان کی زیادتی کو دیکھ کر ٹیکسی ڈرائیور کی نیت بدل گئی، چنانچہ ویرانے میں ایک جگہ ٹیکسی ڈرائیور نے اس کو قتل کر دیا اور لاش زمین میں دفن کر دی، جب کئی مہینے گزر گئے تو دفتر والوں نے اس کے دوست احباب سے رابطہ کیا کہ فلاں آدمی دفتر سے چھٹی لے کر گیا تھا مگر واپس نہیں آیا، دوستوں نے گھر فون کیا، تو اہل خانہ نے کہا کہ وہ تو یہاں آیا ہی نہیں، تب ایک ہنگامہ کھڑا ہوا، مگر ’’اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیا چگ گئیں کھیت‘‘ کاش کہ وہ اسلامی آداب کا سفر کا خیال کرتے تو اہل خانہ کو غم کی بجائے خوشی نصیب ہوتی۔



















































