کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ پاک نے پانی کو بغیر رنگ و بُو اور ذائقے کے کیوں پیدا فرمایا ہے اگر پرودگار پانی کو ایک مخصوص رنگ عطا فرما دیتا تو وہ ساری اشیاء جن کی بقاء و پرورش میں پانی کا عظیم کردار ہے، وہ سب کی سب ایک ہی رنگ کی ہوتیں۔ اگر اللہ تعالیٰ پانی کو ایک مقرر ذائقہ عطاء کردیتا تو
کھائی جانے والی تمام سبزیاں ایک ہی ذائقہ رکھتیں کیونکہ پودوں کی افزائش اِسی پانی سے ممکن ہے۔ اِسی طرح اگر رب عز وجل پانی کو ایک خاص خوشبو دے دیتا تو وہ تمام اشیاء جن کی بقاء پانی سے ہے اور خوشبودار ہیں، وہ سب کی سب ایک ہی خوشبو کی حامل ہوتیں۔ جیسے کہ گلاب اور چنبیلی کے پھولوں کی خوشبو ایک جیسی ہوتی۔ اسی طرح انسانی جسم کے بعض حصوں میں موجود پانی کو دیکھئے۔!منہ کا پانی میٹھا، کان کا پانی کڑوا اور آنکھ کا پانی نمکین ہے۔ اس میں بھی اللہ کی بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔ منہ کا پانی میٹھا اس وجہ سے بنایا تاکہ ذائقے کا احساس ہو۔ کان کا پانی کڑوا اس وجہ سے بنایا تاکہ حشرات وغیرہ اندر نہ گھس سکیں، اور اگر گھس جائیں تو اِس کی کڑواہٹ سے ہلاک ہو جائیں اور آنکھ کا پانی نمکین اس وجہ سے بنایا تاکہ بیکٹیریا اور جراثیم سے بچاؤ کا ایک مضبوط نظام موجود ہو اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
ابراہیم بن ہانی کا بیان ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اﷲ علیہ جب تک میرے مکان میں رہے ان کا معمول رہا کہ دن میں روزہ رکھتے تھے افطار میں جلدی کرتے تھے اور عشاء کے بعد نفل پڑھ کر تھوڑا سو جاتے۔ اس کے بعد اٹھ کر وضو کرتے اوررات بھر نماز میں مشغول رہتے تھے۔



















































