چنانچہ ایک مرتبہ امریکہ میں ہم سفر کر رہے تھے، ایک بوڑھی خاتون قریب آئی اورپوچھنے لگی: کیا آپ مسلمان ہیں؟ جواب دیا: جی ہاں، اس نے کہا: میں نے سنا مسلمان اپنے وعدے میں بڑے پکے ہوتے ہیں، ہم نے کہا: کہ بالکل آپ نے صحیح بات سنی،
اس نے کہا: پھر آپ بھی میرے ساتھ ایک وعدہ کریں، میں نے کہا کہ بھئی کیوں وعدہ کریں؟ اس نے کہا: بس آپ میرے ساتھ وعدہ کریں، پوچھا کیا چاہتی ہو؟ اس نے جواب دیا: میں بوڑھی عورت ہوں، میرے بیٹے بھی ہیں اور بیٹیاں بھی ہیں مگر وہ سب جوان ہو چکے، اب کسی کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ وہ مجھے دن میں ایک منٹ کے لیے ملنے آ جائے، میں اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہوں، اورتنہائی کی وحشت سے تنگ آ گئی ہوں، یوں لگتا ہے کہ ذہنی مریضہ بن جاؤں گی، سارا دن میں گھر کی دیواروں کو تکتی رہتی ہوں، کوئی مجھے فون کرنے والا نہیں ہوتا، کوئی میرا حال پوچھنے والا نہیں ہوتا، میں کھاؤں نہ کھاؤں، رات کو نیند ئے یا نہ آئے، جیوں یا مروں، میرے ساتھ کسی کو کوئی دلچسپی نہیں، مجھے زندگی کاکوئی مقصد نظر نہیں آ رہا، آپ ایک کام کریں کہ جہاں کہیں بھی ہوں دن میں ایک منٹ کے لیے مجھے ٹیلی فون کرکے صرف اتناپوچھ لیا کریں کہ آپ خیریت سے ہیں، ٹیلی فون کا بل میں ادا کروں گی مگر اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ سارا دن انتظار تو رہے گا ناکہ مجھے ایک بندے کی کال آئے گی اس دن احساس ہوا کہ یااللہ دین اسلام سے ہٹ کر جو لوگ زندگیاں گزار رہے ہیں، وہ کتین مصیبت میں گرفتار ہیں۔



















































