علامہ باقریؒ نے یہ واقعہ لکھاہے، فرماتے ہیں: رومیوں نے چند مسلمان عورتوں کوگرفتار کر لیا، ہارون رشید کا زمانہ تھا، ہارون رشید نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگوں کو تیار کیجئے تاکہ ہم فوج تیار کرکے ان پر حملہ کریں، ایک عالم نے جہاد کی ترغیب دی کہ اللہ کے راستے میں نکلو، اپنی جانوں کو اپنے مالوں کو اللہ کے راستے میں پیش کرو، وہ کہتے ہیں جب میں نے لوگوں کو اللہ کے راستے میں نکلو،
اپنی جانوں کو اپنے مالوں کو اللہ کے راستے میں پیش کرو، وہ کہتے ہیں جب میں نے لوگوں کو اللہ کے راستے میں جہاد کی ترغیب دی تو اس کے بعد اپنے گھر کی طرف آنے لگا، راستے میں ایک جوان لڑکی کو انتظار کرتے دیکھا، میں اس کے قریب سے گزرنے لگا، تو اس نے مجھے اپنی طرف کوئی بات کرنے کے لیے متوجہ کیا، میں سمجھا کہ شاید اس کی نیت ٹھیک نہیں تو میں اس سے آگے گزرنے لگا وہ لڑکی کہنے لگی کہ کیا نیک لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی کی بات ہی نہیں سنتے؟ تو پھر میں رک گیا کہ یہ بچی کچھ اچھی بات کرناچاہتی ہے، میں نے کہا بیٹی! آپ مجھے کیا کہنا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ آپ ہی نے جہاد کے لیے ترغیب دی ہے میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: میری طرف سے یہ رقعہ لے لیں اور یہ تھیلا لے لیں جہاد کے لیے، میں نے جب رقعہ لے کر پڑھا تو رقعہ پر لکھا ہوا تھا کہ میں اکیلی گھر میں ہوں، جہاد کے لیے خود تو نکل نہیں سکتی، مگر میرے سر کے بال کافی لمبے ہیں، میں نے اپنے سر کے یہ خوبصورت بال کاٹ کر اس تھیلے میں ڈال دیے ہیں، ان بالوں سے کسی ایسے گھوڑے کی لگام بنا لیجئے جو اللہ کے راستے میں نکل چکاہو، وہ کہتے ہیں: میں حیران ہو گیا کہ عورت میں جہاد کا اتنا جذبہ کہ اپنے سر کے بال کاٹ کر دے دیے اس گھوڑے کے لیے جو اللہ کے راستے میں نکل چکا ہو۔



















































