ایک دن بادشاہ سلامت نے سوچا کہ لوگ ایاز پر اعتراض کرتے ہیں میں ذرا ان لوگوں کا امتحان لیتاہوں، چنانچہ اس نے خزانہ سے ایک ہیرا، موتی منگایا اور ہتھوڑا بھی منگوایا اور سب کو کہا کہ دیکھو آج میں آپ لوگوں کی ذہانت کا امتحان لوں گا، ہر بندہ بڑا محتاط ہو گیا،
بادشاہ نے وہ ہیرا نکالا اور پہلے کو دیا کہ اس کو توڑو، اس نے کہا بادشاہ سلامت! اتنا قیمتی ہیراتوڑیں؟ اس سے بہت نقصان ہو جائے گا، تو بادشاہ نے لے لیا اور دوسرے کو دے دیا، دوسرے نے بھی یہی کہا، بادشاہ سلامت اتناقیمتی ہیرا، اس کو کیسے توڑیں گے؟ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے لے لیا، تیسرے کو دیا، حتیٰ کہ سب یہی جواب دیتے رہے، کسی نے ہیرے کو نہیں توڑا، جب بادشاہ نے ایاز کے ہاتھ میں پکڑایا اور کہا ہیرا توڑو، ایاز نے زمین پر رکھا اور ایک ہتھوڑا مار کر اس کے ٹکڑے کر دیے، سارے لوگ حیران، ارے جاہل، کم عقل، بے سمجھ انسان، اتنا بڑا نقصان کر دیا، اب اس کو بادشاہ کی ڈانٹ پڑے گی، بادشاہ خاموش تھا، تھوڑی دیر کے بعد اس نے ایاز سے پوچھا کہ ایاز تم نے ہیرا توڑ دیا؟ ایاز نے جواب دیا، ہاں اور کہا بادشاہ سلامت! میرے سامنے دو باتیں تھیں، جب آپ نے فرمایا کہ ہیرے کو توڑو، اب یا تو میں ہیرے کو توڑتا یا میں آپ کے حکم کو توڑتا، میری نظر میں آپ کا حکم زیادہ قیمتی تھا، اس لیے میں نے ہیرے کو توڑ دیا اور آپ کے حکم پر عمل کرلیا، اس پر بادشاہ خوش ہوا اور اس کی عقل کی داد دی۔



















































