ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا، کچھ بڑاہو گیا تو ان کے یہاں ایک اللہ والے آئے، یہ اپنے بیٹے کو ان کے پاس لے کر گیا، ان بزرگ کے پاس کھانے کے لیے میٹھی چیزتھی، انہوں نے بچوں کو پیش کی تو بچے نے انکار کیا، انہوں نے دوبارہ دی، بچے نے اپنے ابا کی طرف دیکھتے ہوئے پھر انکار کیا، جب بچے نے ایسا کیاتو ان بزرگ کی آنکھوں میں سے آنسو آ گئے، والد کو برا محسوس ہوا، کہنے لگے حضرت یہ بچہ ہے آپ محسوس نہ کریں، پھر اس نے بچے کو کہا بیٹا لے لو، بچے نے لے لی اس نے پوچھا،
حضرت! آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں آئے؟ کہنے لگے کہ مجھے یہ خیال آیا کہ یہ چھوٹا سا بچہ ہے لیکن اس کے اندر باپ کی اتنی اطاعت ہے باوجود میٹھے کی رغبت کے جب تک باپ نے اشارہ نہیں کیا اس وقت تک اس نے میٹھی چیز کی طرف دیکھابھی نہیں، جب کہ میں تو اتنی بڑی عمر کو پہنچ کر بھی چھوٹے بچے کی طرح بھی نہ ہوا، ہم لوگ جو گلی بازار میں پھرتے ہیں تو ہمارے سامنے بھی تو نیلی پیلی میٹھائیاں پھر رہی ہوتی ہیں، کاش کہ ہم ان کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے رب کی طرف دیکھتے کہ ہمارے رب کا کیا حکم ہے۔



















































