حضرت سری سقطیؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پرجا رہا تھا، راستے میں تھک گیا اور ایک درخت کے سایے میں آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا، جب میری آنکھ کھلی تو میں نے درخت سے آواز آتے سنی۔۔۔ یہ جو اللہ والے ہوتے ہیں، ان کو بعض اوقات اللہ تعالیٰ سمعی یا بصری کشف عطا فرما دیتے ہیں، وہ عجیب سی آوازیں سنتے ہیں جو ہم نہیں سن پاتے۔۔۔ تو فرماتے ہیں کہ وہ درخت مجھ سے گفتگو کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا ’’اے سری! تو میرے جیسا ہو جا۔‘‘
فرماتے ہیں کہ میں بڑا حیران ہوا کہ یہ درخت مجھے کہہ رہا ہے کہ اے سری! تو میرے جیسا ہو جا، تو میں نے اس درخت سے مخاطب ہو کر کہا: کیف اکون مثلک؟ میں تیرے جیسا کیسے بن سکتا ہوں؟ تو درخت نے جواب میں کہا: ان الذین یرموننی بالاحجار فارمیھم بالاثمار جو لوگ میری طرف پتھر پھینکتے ہیں میں ان لوگوں کی طرف اپنے پھل لوٹاتا ہوں، تو بھی میرے جیسا ہو جا، تجھے بھی لوگ پتھر ماریں گے اور تو نے بھی ان پتھروں کے جواب میں اپنا پھل لوٹا دینا، ان کے ساتھ حسن خلق سے پیش آنا، فرماتے ہیں کہ میں درخت کا جواب سن کر بڑا حیران ہوا کہ درخت نے کیا عجیب بات کہی! لیکن فوراً میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ اگر یہ درخت اتنا اچھا ہے کہ پتھر مارنے والوں کو بھی اپنا پھل کھلاتا ہے تو پھر اس درخت کو اللہ نے آگ کی غذا کیوں بنایا؟ فرماتے ہیں کہ جب میرے ذہن میں یہ خیال آیا تو میں نے درخت سے یہ سوال پوچھا، ’’اے درخت! پھر یہ بتا کہ اللہ نے تجھے آگ کی غذا کیوں بنا دیا؟‘‘ یعنی اگر تم اتنے ہی اچھے تھے تو تم آگ کی غذا کیوں بن گئے؟ کہتے ہیں کہ اس سوال کے جواب میں گویا ٹھنڈی سانس لے کر کہا کہ سری! میرے اندر خوبی بھی بڑی اچھی ہے کہ لوگ مجھے پتھر مارتے ہیں اور میں انہیں پھل دیتا ہوں، لیکن میرے اندر ایک خامی بھی بہت بری ہے جس نے میری تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیا، پوچھا: کون سی خامی ہے؟ درخت کہنے لگا: ’’جدھر کی ہوا چلتی ہے میں ادھر کو ڈول جاتا ہوں‘‘، سری! میرے اندر استقامت نہیں ہے اور یہ بات میرے اللہ کو اتنی ناپسند ہے کہ میری خوبیوں کے باوجود اللہ نے مجھے آگ کی غذا بنا دیا۔۔۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر اچھے اعمال میں استقامت اختیار کریں، تلاوت و ذکر اور مراقبہ میں استقامت و مداومت کے بغیر انسان کا معاملہ ترقی کے سلسلہ میں ڈانواڈول ہی رہتا ہے۔



















































