اللہ رب العزت کی محبت کا راستہ بھی عجیب ہے، صحابہ کرامؓ میں سے ایک معذور صحابیؓ تھے، حضرت عمرو بن جموحؓ، وہ اپنی ٹانگوں سے معذور تھے اور اپنا توازن بھی قائم نہیں رکھ سکتے تھے، ان کے چار بیٹے جہاد میں شریک تھے،
ان کے دل میں تمنا اٹھی کہ میں بھی جہاد میں شریک ہوں، نبی کریمؐ سے آ کر اجازت مانگی، آپؐ نے فرمایا کہ آپ کے تو چار بیٹے جہاد میں شریک ہیں، آپؓ گھرمیں ہی رہیں تو ٹھیک ہے، عرض کی کہ اے اللہ کے محبوبؐ! میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے لنگڑے پن کے باوجود میں جنت میں چلا جاؤں، نبی کریمؐ نے اجازت عنایت فرما دی، گھر آئے اور اہل خانہ سے کہا کہ میرے جہاد کے سفر کی تیاری کرو، چنانچہ گھر میں تیاریاں ہونے لگیں، بیوی کا خاوند کے ساتھ ایک خصوصی تعلق ہوتا ہے، ان کی بیوی نے دل لگی کے طور پر ہمت باندھنے کے لیے کہہ دیا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ آپ میدان جہاد سے بھاگ کر واپس آ جائیں گے، جیسے ہی یہ سنا دعا مانگی، ’’اے اللہ! مجھے میرے اہل خانہ کی طرف نہ لوٹانا‘‘ چنانچہ جہاد میں گئے، انہوں نے قتال در قتال کیا حتیٰ کہ شہید ہو گئے۔‘‘ان کی اہلیہ جب لاش لینے کے لیے گئی تو سواری واپس چلتی ہی نہ تھی، نبی کریمؐ کی خدمت میں معاملہ پیش کیا گیا، آپؐ نے پوچھا کہ جانے سے پہلے گھر میں کوئی بات ہوئی؟ انہوں نے سارا واقعہ سنایا، آپؐ نے فرمایا اب اس کی لاش بھی گھر کی طرف واپس نہیں جائے گی، جس قوم کے معذوروں کا یہ حال ہے تو اس کے صحت مندوں کا کیا حال ہوگا؟۔۔۔ خدائی وعدوں، بشارتوں پر اس قدر یقین تھا اور راہِ خدا میں جان نچھاور کرنے کا وہ جذبہ تھا جس کی مثال دنیا پیش نہیں کر سکتی۔



















































