دارالعلوم دیو بند کے خازن ایک نواب صاحب تھے، وہ تہجد گزار تھے، ان کے پاس دارالعلوم کے پیسے ہوتے تھے، وہ جس جگہ پر دارالعلوم کے پیسے رکھتے تھے اسی جگہ ان کے اپنے پیسے بھی ہوتے تھے، اس الماری کو انہوں نے چھوٹا سا تالا لگایا ہوا تھا، ایک دن تہجد کے لیے اٹھے تو دیکھا کہ چور آیا ہوا ہے اور وہ اس تالے کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے،
جب کہ یہ اللہ کے ایسے بندے تھے کہ وضو کرکے نفل پڑھنے میں لگ گئے اور وہ تالا توڑنے کی کوشش میں لگا رہا، اس سے تالا ہی نہ ٹوٹا، حتیٰ کہ جب فجر کی نماز کا وقت قریب ہوا تو وہ مصلے سے اٹھ کر آئے اور کہنے لگے، اے بھائی! اگر ساری رات میں یہ تالا تجھ سے نہیں ٹوٹا تو اب کہاں سے ٹوٹے گا، یہ سن کر چور نے سمجھا کہ اب گھر والے جاگ گئے ہیں، چنانچہ وہ بھاگ گیا، اس کے بعد انہوں نے مسجد میں پہنچ کر نماز پڑھی۔۔۔ ان کا تکیہ کلام تھا: اللہ کے فضل سے یعنی جب وہ کوئی بات کرتے تو وہ کہتے، اللہ کے فضل سے، اللہ کے فضل سے۔۔۔ وہ نماز پڑھ کر امام صاحب سے کہنے لگے، حضرت! آج تو اللہ کے فضل سے اللہ کا غضب ہو گیا، امام صاحب ان کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے، کیا کہہ رہے ہو؟ کہا، آج تو اللہ کے فضل سے اللہ کا غضب ہو گیا، انہوں نے کہا، کیا مطلب؟ پھر انہوں نے رات کوپیش آنے والا واقعہ سنایا، امام صاحب نے واقعہ سن کر کہا کہ جب تم اٹھ گئے تھے تو تمہیں چاہیے تھا کہ پہلے ہی چور کو بھگا دیتے، تم نے اسے اسی وقت کیوں نہ بھگا دیا، یہ اس کی بات سن کر ناراض ہو کر کہنے لگے، میں اپنے مال کی پوری پوری زکوٰۃ دیتا ہوں، ممکن ہی نہیں تھا کہ چور میرے تالے کو توڑ کر چوری کرسکتا، میرا مال میرے اللہ کی حفاظت میں ہے۔۔۔ یہ ہے خدائی وعدہ پر ایمان و یقین کی اعلیٰ مثال، ہمیں بھی یقین کامل کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔



















































