رابعہ بصریہؒ کے پاس ایک مرتبہ مہمان آ گئے، کھانے کا وقت ہو گیا، خادمہ سے پوچھا: کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا، نہیں، کہنے لگیں: اچھا اللہ نے مہمان بھیجے ہیں تو کھانا بھی وہی بھیجے گا۔تھوڑی دیرکے بعد دروازے پر دستک ہوئی،
باہر سے ایک آدمی نے کہا: کھانا لایا ہوں، خادمہ نے جا کر کھانا پکڑا اور لے آئی، پوچھا: کتنی روٹیاں ہیں؟ اس نے کہا: جی! نو روٹیاں ہیں، کہنے لگیں: مہمان دس ہیں اور روٹیاں نو ہیں ، یہ میری نہیں ہے، کسی اور کی ہے، واپس لے جاؤ، خادمہ نے واپس کر دیں، لیکن تھوڑی دیر کے بعد کسی نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا تو پتہ چلا کہ کوئی کھانا لایا ہے، فرمایا: روٹیاں گنو! بتایا جی نو ہیں، فرمایا، میری نہیں ہے، واپس لے جاؤ، تیسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا، کہا: روٹیاں گنو! اس نے بتایا ، نو ہیں۔اب خادمہ نے کہا: جی! اب تیسری مرتبہ وہ لے کر آیا ہے، آپ ہر دفعہ واپس کر رہی ہیں اب تو لے ہی لیں، تو انہوں نے فرمایا:’’سن! میں نے آج صبح اللہ کے راستے میں سائل کو ایک روٹی دی تھی اور میرے اللہ کا وعدہ ہے ’’جو ایک نیکی لائے گا اس کو اس کا دس گنا بدلہ ملے گا‘‘اس لیے میری دس روٹیاں ہونی چاہئیں۔’’خادمہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا: جی! وہ دس ہی لے کر آیا تھا، ایک روٹی میں نے اپنے کھانے کے لیے رکھ لی تھی۔اللہ کی ذات پر ان کا اتنا یقین بنا ہوا تھا کہ فرمایا: میری دس ہی روٹیاں ہو سکتی ہیں، کم نہیں ہو سکتیں۔



















































