ایک شخص نے جوانی غفلت کے کاموں میں ضائع کی، جب بڑھاپا آیا اور اعضاء نے جواب دینا شروع کر دیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ اب کیا پیشہ اختیار کیا جائے، ساتھیوں نے بتایا کہ پیری مریدی ایک ایسا پیشہ ہے کہ جس میں بغیر محنت مشقت خوب مزے ہوتے ہیں، چنانچہ اب وہ پیر بن بیٹھا، اس مصنوعی پیر کے یہاں ایک سچا طالب آ پہنچا،
اس نے بہت ادب سے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میں آپ سے اللہ کا راستہ سیکھنے کے لیے آیا ہوں، وہ سالک چوں کہ غلطی سے بے وقت پہنچ گیا تھا اس لیے وہ مصنوعی پیر اس کے بے وقت آنے پر بہت ناراض ہوا اور کہا کہ اللہ کا راستہ یوں نہیں آتا، یہ کہہ کر اس کو ایک پھاوڑا دیا اور کہا کہ فلاں باغ میں اس کی زمین میں گوڈی کرو، کیاریاں بناؤ اور پانی دو، وہ اسی وقت پھاوڑا لے کر اس باغ میں پہنچا اور اس کی مرمت شروع کر دی، باغ والے مزاحم ہوئے کہ تو ہمارے باغ میں کیوں دخل دیتاہے اس نے بہت منت خوشامد سے کہا کہ مجھے تمہارے باغ سے کچھ نہیں لینا، مجھے میرے پیر نے اس باغ کے صاف کرنے اور مرمت کرنے کو کہا ہے، اول اول تو وہ لوگ بہت ڈرتے رہے اس کو مارا پیٹا بھی، مگر یہ دیکھ کر کہ نہ یہ کھانے کو مانگتا ہے نہ اور کچھ، جو کچھ روکھی سوکھی ہوتی ہے وہ کھا لیتاہے، تین مہینے اسی حال میں گزر گئے، اسی دوران ابدال میں سے کسی کا انتقال ہوا تو اولیاء وقت کی مجلس میں اس کے بدل کا مشورہ ہوا، ابدال حضرات نے اپنی اپنی رائے سے لوگوں کے نام بتائے قطب وقت نے سب کے نام سن کر کہا کہ ایک نام ہمارے ذہن میں بھی ہے اگر تم پسند کرو، سب نے عرض کیا ضرور ارشاد فرمائیں۔ حضرت نے فرمایا فلاں باغ کا فلاں مالی بڑا مخلص ہے، سچی طلب رکھتا ہے، بہت اخلاص سے مجاہدہ میں مشغول ہے،
سب نے اس رائے کو بہت پسند کیا، پھر سب نے اس پر توجہ ڈالی جس کی وجہ سے اسی وقت انکشافات ہوئے اور پھاوڑا باغ والوں سے یہ کہہ کر حوالہ کر دیا کہ یہ فلاں پیر صاحب کا ہے، جو فلاں گاؤں میں رہتے ہیں اور میں جا رہا ہوں، ہر چند ان لوگوں نے خوشامد منت سماجت کی کہ ذرا اپنا حال تو بتلا دے مگر اس نے کچھ نہیں بتایا، اور کہا سنا معاف کرا کر وہیں سے غائب ہو گیا۔



















































