ایک بزرگ رات دن عبادت الٰہی میں مشغول رہتے تھے، ایک دفعہ ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اللہ کے کسی دوست سے ملاقات کرنی چاہیے، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک نوجوان اپنی بکریوں کو چرا رہا ہے اور کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ یہ نوجوان اللہ کا دوست ہے، تم اس سے ملاقات کر لو، وہ بزرگ بیدار ہوئے تو انہیں اس نوجوان سے ملاقات کی جستجو ہوئی،
ایک دن انہوں نے دیکھا کہ وہ نوجوان اپنی بکریوں کا ریوڈ لے کر راستہ سے گزر رہا ہے، وہ بزرگ اس نوجوان سے مل کر بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ میں چند دن آپ کے گھر مہمان بن کر رہنا چاہتا ہوں، نوجوان نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور اس بزرگ کو اپنے گھر لے آیا، رات کے وقت دونوں آپس میں گفتگوکر رہے تھے کہ اس بزرگ نے نوجوان سے اپنے خواب کا تذکرہ کیا اور پوچھا کہ تمہارا کون سا عمل اللہ کو اتنا پسند آیا ہے کہ تمہیں پروردگار نے اپنے دوستوں میں شامل کر لیا ہے، یہ سن کر وہ نوجوان آب دیدہ ہو گیا، پھر اس نے قریب کا کمرہ کھول کر دکھایا کہ اس میں دو مسخ شدہ چہرے والے انسان بندھے ہوئے تھے، وہ بزرگ حیرت زدہ رہ گئے اور پوچھنے لگے کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ نوجوان نے کہا یہ میرے غافل اور گناہ گار والدین ہیں، ایک مرتبہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں ایسی گستاخی کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے چہرے کو مسخ کر دیا، میں سارا دن بکریوں کا ریوڑ چراتا ہوں اور جب واپس گھرآتا ہوں تو پہلے والدین کو کھانا کھلاتا ہوں، بعد میں خود کھاتا ہوں، گو انہوں نے اپنے جرم کی سزا دنیا ہی میں پا لی، مگر میرا فرض بنتا ہے کہ ان کی خدمت کروں، آخر میرے تو والدین ہیں، وہ بزرگ حیران ہوئے اور انہوں نے نوجوان کو سینے سے لگا کر کہا کہ ہم نے ساری ساری رات عبادت کی اور سارا سارا دن روزہ رکھا مگر اس مقام تک نہ پہنچ سکے، جس مقام پر آپ کو والدین کے ادب اور ان کی خدمت کی وجہ سے پہنچنا نصیب ہوا۔



















































