بنی اسرائیل کے تین آدمی اکٹھا سفرکر رہے تھے کہ اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی، تینوں نے بھاگ کر ایک قریبی پہاڑ کے غار میں پناہ لے لی، اسی دوران ایک چٹان اوپر سے گری جس سے غار کا منہ بند ہو گیا، غار کے اندر اندھیرا ہو گیا، سانس گھٹنے لگی، حتیٰ کہ تینوں کو موت سامنے کھڑی نظر آ رہی تھی، انہوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ بارگاہِ الٰہی میں اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کیا جائے، چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اے پروردگارِ عالم! تو جانتا ہے کہ میرے والدین بوڑھے تھے، میں سارا دن بکریاں چراتا تھا،
شام کو گھر واپس آ کر ان بکریوں کا دودھ اپنے والدین کو پلاتا تھا، ایک دن گھر واپس آنے میں تاخیر ہو گئی تو میں نے دیکھا کہ والدین سو چکے ہیں، اے اللہ! میں دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لے کر انتظار کرتا رہا کہ جب ان کی آنکھ کھلے گی تو پیش کروں گا، اسی حال میں میری ساری رات گزر گئی، رب کریم اگر میرا یہ عمل آپ کی نظر میں مقبول ہے تو اس کی برکت سے چٹان کو دور فرما، چنانچہ چٹان اپنی جگہ سے سرک گئی اور غار کے منہ کا تیسرا حصہ کھل گیا، پھر دوسرے اور تیسرے نے دعا مانگی، حتیٰ کہ چٹان ہٹ گئی اور ان لوگوں کی جان میں جان آئی۔



















































