اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

جتنی عقیدت اتنا ہی فیض

datetime 11  اپریل‬‮  2017 |

ایک بزرگ سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ تھے، وقت کے بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے سوچا کہ ان کے مریدین زیادہ ہوتے چلے جا رہے ہیں، کہیں میرے لیے یہ خطرہ ہی ثابت نہ ہوں، چنانچہ اس نے حضرت کو اپنے پاس بلوایا۔بادشاہ نے کہا: جی! مجھے آپ کے متعلقین کی کثرت کی وجہ سے ڈر سا محسوس ہو رہا ہے کہ کہیں آپ میرے لیے خطرہ ثابت نہ ہوں۔انہوں نے فرمایا: جناب! آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،

یہ بھیڑ جمع ہے، مریدین تھوڑے ہیں۔بادشاہ کہنے لگا: نہیں، میں نے تو سنا ہے کہ آپ کے چاہنے والے لاکھوں ہیں۔انہوں نے فرمایا: نہیں، آپ کو رپورٹ غلط ملی ہے، حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔بادشاہ نے کہا: نہیں، ہم تو دیکھتے ہیں کہ روزانہ سینکڑوں آدمی آپ کے پاس آتے جاتے ہیں۔انہوں فرمایا: جناب! ایسا نہیں ہے، میرے تو اس دنیا میں کل ڈیڑھ مرید ہیں۔ بادشاہ نے حیران ہو کر کہا: یہ لاکھوں کا مجمع۔۔۔ اور آپ کہتے ہیں کہ ڈیڑھ مرید!!! انہوں نے کہا: جی ہاں!بادشاہ نے کہا: میں نہیں مانتا۔انہوں نے کہا: میں آپ کو طریقہ بتا دیتاہوں چیک کرنے کا۔بادشاہ نے کہا: ٹھیک ہے۔چنانچہ انہوں نے بادشاہ کو ایک ترکیب بتائی، پھر بادشاہ نے ترکیب کے مطابق اعلان کروا دیا کہ ان سے جتنے تعلق رکھنے والے ہیں وہ سارے کے سارے فلاں جگہ جمع ہو جائیں، وہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔وہاں پر بادشاہ نے یہ اعلان کیا کہ اس شیخ سے ایک ایسی غلطی ہوئی ہے کہ جس کی وجہ سے آج اس کو قتل کرنا ضروری ہو گیا ہے، ہاں! اس کے بدلے میں اگر کوئی اپنی جان پیش کر سکتا ہے تو پھر ہم ان کو معافی دینے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔۔۔ اب کون ہاتھ کھڑا کرے۔۔۔ وہیں سے لوگوں نے واپس جانا شروع کر دیا، بس تھوڑے سے رہ گئے، بادشاہ نے پھر کہا: ہے کوئی؟ جو اپنے آپ کو ان کی جگہ پر پیش کرے؟

یہ سن کر ایک مرد آگے بڑھااور اس نے کہا: جی ہاں! آپ بے شک مجھے قتل کر دیں اور میرے شیخ کو چھوڑ دیں۔بادشاہ نے ایک خیمہ لگایا ہوا تھا اور اس خیمے کے اندر ایک بکری بھی پہنچائی ہوئی تھی، پھروہ مرید جس نے کہا: آپ مجھے میرے شیخ کی جگہ پر قتل کر دیں اس کو اس خیمے میں پہنچا دیا گیا اور اس بندے کی بجائے اس بکری کو وہاں پر ذبح کر دیا گیا، جب بکری کا خون خیمے سے باہر نکلا تو سب لوگوں نے سمجھا کہ بندے کو تو قتل کر دیا گیا ہے،

اب سب لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بادشاہ نے پھر اعلان کیا کہ ایک اور بندے کی ضرورت ہے، اب کوئی اور ہے جو اپنے آپ کو اپنے شیخ کی جگہ پر پیش کرے۔۔۔ اب تو وہ خون بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے، اس لیے کون اپنے آپ کو پیش کرتا؟ چنانچہ سب خاموش ہو گئے، جب بار بار پوچھا گیا تو ایک عورت نے کہا: جی ہاں! میں بھی اپنے شیخ کے بدلے میں اپنی جان پیش کرتی ہوں، مجھے قتل کر دو اور میرے شیخ کو چھوڑ دو،

اس کے بعد کسی نے ہاتھ کھڑا نہ کیا۔چنانچہ اب شیخ نے بادشاہ سے کہا: دیکھا! میں نہیں کہتا تھا کہ آپ کو لاکھوں کا مجمع نظر آتا ہے لیکن میرے مریدین ان میں سے ڈیڑھ ہی ہیں۔بادشاہ نے کہا: ہاں، ٹھیک ہے، مرد کی گواہی پوری اور عورت کی گواہی آدھی ہوتی ہے، اس لیے آپ نے ٹھیک ہی کہا کہ مرد ایک مرید ہے اور عورت آدھی مرید، یوں ڈیڑھ مرید بن گئے۔شیخ نے کہا نہیں نہیں! ۔۔۔ بات الٹی ہے۔۔۔

مرد آدھا مرید تھا اور عورت پوری مرید تھی، جس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر اپنی جان دینے کے لیے تیار ہو گئی۔اس واقعہ سے پتہ چلا کہ لوگ شیخ کے ساتھ ارادت کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن آج ہر ایک کو ارادت میں پختگی حاصل نہیں ہوتی، پھر اس کی وجہ سے مقصود حاصل نہیں ہوتا۔۔۔ اگر فیض کامل چاہتے ہیں، انوارات کو جذب کرنا چاہتے ہیں اور ظاہر و باطن کو منور کرنا چاہتے ہیں تو کامل عقیدت و محبت کے ساتھ صحبت میں رہنا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…