حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے بڑے بزرگوں میں سے ہیں، ان کی طبیعت بہت ہی نفیس تھی کسی قسم کی کوئی کجی برداشت ہی نہیں ہوتی تھی، ایک مرتبہ بادشاہ وقت ان کی زیارت کو آیا، کچھ دیر کے بعد اسے پیاس لگی تو قریب ہی ایک گھڑے سے پانی پیالے میں ڈال کر پیا، پینے کے بعدگھڑے کے اوپر پیالہ رکھ دیا لیکن تھوڑا سا ٹیڑھا رکھ دیا، کچھ دیر کے بعد بادشاہ نے رخصت کی اجازت چاہی
اور ساتھ ہی عرض کیا کہ آپ فرمائیں تو میں خدمت کے لیے کسی خادم کو آپ کے پاس بھیج دوں، اس پرآپ نے کہا: کہ تم بادشاہ ہو اور تمہارا یہ حال ہے کہ گھڑے پر پیالہ ٹیڑھا رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک میرے سر میں درد ہو رہا ہے، تمہارا خادم پتہ نہیں میرا کیا حال کر جائے گا۔حضرت کی اس قدر نازک مزاجی کے باوجود اہلِ طلب عقیدت و محبت میں ڈوبے رہتے تھے، ہر لمحہ ان کے مزاج کا خیال رکھتے تو ایسے ہی لوگ فیض یاب ہوئے۔



















































