ایک دن ہارون رشید اور اس کی بیوی زبیدہ دریا کے کنارے چہل قدمی کر رہے تھے، بہلول دانا جو ایک بزرگ تھے وہ وہاں بیٹھے ہوئے ریت کے گھر بنا رہے تھے، ہم نے بچوں کو دیکھا کہ ریت والی جگہ پر پاؤں رکھ کر اوپر ریت جماتے ہیں اور کہتے ہیں گھر بن گیا، تو ریت کے گھروندے بنا رہے تھے، ہارون رشید آیا السلام علیکم، وعلیکم السلام، بہلول کیا کر رہے ہو؟ گھر بنا رہا ہوں، جو خریدے گا میں دعا کروں گا،
اللہ اس گھر کے بدلے اس بندے کو جنت میں گھر عطا فرما دے، بہلول قیمت کتنی ہے؟ انہوں نے کہا ایک دینار، بادشاہ نے سمجھا یہ جہاز ہے اپنی موج میں ہے پرواز کر رہا ہے، بادشاہ سلامت تو آگے چلے گئے پیچھے سے زبیدہ آئی، اس نے پوچھا کہ بہلول کیا کر رہے ہو؟ اس نے وہی جواب دیا کہ گھر بنا رہا ہوں جو خریدے گا تو میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ اس گھر کے بدلے اس بندے کو جنت میں گھر عطا فرما دے، بہلول کیا قیمت ہے؟ ایک دینار، زبیدہ نے ایک دینار دے دیا اور گھر چلے گئے، اب رات کو جب ہارون رشید سویا تو اس نے خواب میں دیکھا۔۔۔ جنت ہے، اس کے محلات ہیں، باغات ہیں، نہریں ہیں، مرغزاریں ہیں، آبشاریں ہیں، جنت کی سکائی لائن ہے اور اس میں ایک سرخ یاقوت سے بنا ہوا بڑا محل ہے اور اوپر زبیدہ کے نام کا سائن بورڈ لگا ہوا ہے تو ہارون رشید نے کہا بھئی چلتے ہیں دیکھتے ہیں، ذرا، جب دروازے پر پہنچ کر اندر جانے کی کوشش کی تو ایک سکیورٹی والے نے روک لیا اور کہا کہ یہاں صرف وہی داخل ہو سکتاہے جس کا یہ محل ہے آپ جائیں، اب جب اس نے روکا تو بادشاہ کی آنکھ کھل گئی، اب بادشاہ کو بہت پریشانی کہ مجھ سے تو بیوی عقل مند نکلی، اس نے روپیہ دے کر دعا کروا لی اور میں دعا ہی نہ کروا سکا، سارا دن اس ڈپریشن میں گزارا جب شام کا وقت ہوا تو اس کے ذہن میں بات آئی کہ آج اگر بہلول بیٹھا ہو گا تو میں آج جا کے دعا کروا لیتاہوں،
چنانچہ جلدی سے پہنچا ادھر ادھر دیکھا،بہلول واقعی بیٹھا ہوا تھا ایک جگہ بہلول کیا کر رہے ہو؟ گھر بنا رہا ہوں کس کے لیے؟ جو خریدے گا میں دعا کروں گا اللہ اس گھر کے بدلے بندے کو جنت میں گھر عطا فرما دے، اچھا بہلول قیمت کیا ہے؟ بہلول نے کہا جناب پوری دنیا کی بادشاہی اس کی قیمت ہے، اب ہارون رشید حیران ہوا، بہلول اتنی قیمت تو میں بھی نہیں دے سکتا، پوری دنیا تو میری حکومت نہیں ہے،
بہلول کل ایک دینار میں دے رہے تھے آج اتنی قیمت بڑھا دی، بہلول نے کہا بادشاہ سلامت کل بن دیکھا سودا تھا، آج دیکھا ہوا سودا ہے اور دیکھے سودے کی قیمت کچھ اور ہوتی ہے۔۔۔ اس سے پتہ چلا کہ شیخ کی بات بلا چوں چراں ماننے سے فائدہ ہوتا ہے، ان کی باتوں کو تجربہ اور مشاہدہ کی کسوٹی پر نہ پرکھے، بلکہ یہی سمجھے کہ ہمارے لیے اسی میں فائدہ ہے۔



















































