حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کا ایک شاگرد تھا جو عالم تھا، وہ ایک دفعہ حضرت کے پاس آیا اور اس نے آ کے کہا کہ حضرت! یہ شعر ہے جس نے بھی یہ شعرکہا لگتاہے اس نے بہت زیادہ اس میں افراط و تفریط سے کام لیاہے، شاہ عبدالعزیزؒ نے اپنے جیب سے کچھ پیسے نکالے اور اس عالم کو دیے اور کہاکہ بھئی! یہ پیسے لے جاؤ جہاں جسم فروش عورتیں ہوتی ہیں،
وہاں جا کر یہ کہنا کہ پیسے میں دیتاہوں لیکن جو کوئی نئی عورت آئی ہے مجھے اس سے ملاؤ، اب وہ اتنے بڑے فقیہ اور شیخ لیکن انہوں نے یہ فرما دیا، پیسے تو اس نے لے لیے مگر جب باہر نکلا تو کہنے لگا، میں تو یہ کام نہیں کر سکتا، لیکن جانتا تھا کہ میرے شیخ بہت بڑے متقی انسان ہیں، اگلے دن پھر حضرت کی صحبت میں پہنچا، حضرت نے پوچھا کہ کل گئے تھے؟ نہیں حضرت نہیں گیا تھا، فرمایا بھئی نقصان اٹھاؤ گے آج چلے جاؤ تمہارے پاس وقت کم ہے۔جب دوبارہ کہا تو اس نے پیسے لیے اور چلا گیا، اس نے جب جا کر یہ الفاظ کہے تو بتلانے والے نے اس کوبتایا کہ ہمارے یہاں ایک عورت نئی پہنچی ہے، کل سفر سے آئی تھی تھکی ہوئی تھی، آج ہم آپ سے اس کو ملا دیتے ہیں، جب وہ ملنے کے لیے سامنے آئی تو عالم صاحب نے دیکھا کہ اس کی سگی بیٹی تھی، دراصل دو دن پہلے بیٹی کی شادی ہوئی تھی اور انہوں نے اس کو اپنے خاوند کے ساتھ روانہ کیا تھا، برات نے کسی دوسرے شہر جانا تھا، راستے میں جنگل میں کچھ ظالم ڈاکوؤں نے قافلے کو لوٹ لیا، انہوں نے دلہن کو بھی وہاں سے اغوا کیا اور یہاں لا کر بیچ دیا، باپ کو تو ابھی تک پتہ ہی نہیں تھا واقعہ کا، اب جب باپ نے بیٹی کو دیکھا تو بیٹی باپ سے چمٹ گئی، ابو! شکر ہے آپ یہاں آ گئے میرے ساتھ یہ گزری تو باپ اپنی بیٹی کو گھر لے کر آیا
اور پھر اس نے آ کر شاہ عبدالعزیزؒ کے پاؤں پکڑ لیے اور کہا کہ حضرت واقعی متبع سنت بزرگ اگر کوئی بات کہتے ہیں تو اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے، آپ کی اس بات نے میری عزت کوبچا لیا۔۔۔ شیخ نگاہِ دور رس رکھتا ہے، نگاہ قلندرانہ سے دیکھ کر کچھ کہا کرتا ہے، بلکہ گفتۂ او گفتہ اللہ بود کا بھی مصداق ہوتاہے، لہٰذا ان کے مشورہ پر عقیدت کے ساتھ عمل کرنے پر اللہ پاک نقصان سے بچا کر مقام عطا فرما دیتے ہیں۔



















































