ایک بزرگ جن کا نام عبدالعزیز تھا، وہ ایک صاحب نسبت بزرگ کے پاس عقیدت کے ساتھ جاتے تھے، جن کا نام ابو حازم تھا بڑے اللہ والے تھے، یہ ان کی خدمت میں آتے جاتے نیاز مندی سے بیٹھتے، چنانچہ ابو حازم نے ایک مرتبہ خوش ہو کر اپنی روٹی کا ایک خشک ٹکڑا بچا ہوا ان کو بھی دے دیا کہ یہ آپ لے لیں،
انہوں نے اس کو تبرک سمجھا کہ یہ اللہ والے کا بچا ہوا کھانا ہے، ویسے ہی مومن کے کھانے میں شفا ہوتی ہے، پھر ایک نیک بندے نے کھانا دیا تحفہ دیا یہ تو تبرک تھا، حضرت عبدالعزیز اس ٹکڑے کو لے کر اپنے گھر آئے اب سوچنے لگے کہ میں کیا کروں، بیوی سے بھی مشورہ کیا سوچا اس کو اس طرح سے استعمال کرنا چاہیے کہ اس کی برکتیں حاصل کر سکیں، چنانچہ اس کی نیت کر لی کہ میں اس کے تین ٹکڑے کرتاہوں روزانہ روزہ رکھوں گا اور میں روزانہ اس روٹی کے ٹکڑے سے افطار کروں گا، یہ اس کا بہترین استعمال ہے، چنانچہ یہ ادب تھا دل کے اندر نیکی تھی، چنانچہ انہوں نے تین روزے رکھے، پہلا روزہ پہلے ٹکڑے سے افطار کیا اور دوسرا روزہ دوسرے ٹکڑے سے افطار کیا اور تیسرا روزہ تیسرے ٹکڑے سے افطار کیا، اللہ کی شان جب تیسرا روزہ مکمل ہوا تو رات کو میاں بیوی آپس میں اکٹھے ہوئے، اللہ نے اس رات میں ان کو برکت عطا فرما دی، ان کے یہاں ایک بیٹا ہوا، جس کا نام انہوں نے عمر رکھا، یہ عمر جب جوان ہوا تو اللہ نے اس کو عمر بن عبدالعزیز بنادیا۔۔۔ جب شیخ کی روٹی کے ٹکڑے کو عقیدت و محبت سے کھانے پر یہ اثر تو اگر ان کی باتوں کو عقیدت سے سنے اور اس پر عمل کرے تو کس قدر فیض یاب ہوئے گا۔



















































