جب میں (حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ ) پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا، اس وقت یہاں جھنگ میں ایک سرکس آئی بڑے بھائی ہمیں سرکس دکھانے کے لیے لے گئے، ہم نے زندگی میں کبھی ہاتھ نہیں دیکھا تھا، وہ کہنے لگے کہ آپ کو ہم ہاتھ بھی دکھائیں گے اور مداری بھی دکھائیں گے، اس عمر میں مداری وغیرہ بہت اچھے لگتے ہیں، چونکہ میں چھوٹا سا تھا اس لیے میں جا کر ہاتھی کے پاس کھڑا ہو گیا،
مجھے پتہ نہیں تھا کہ اس کی اتنی لمبی سونڈ ہوتی ہے، مجھے اس وقت پتہ چلا جب اس نے سونڈ میرے ساتھ لگائی، یہ تو اس کا بھلا ہے کہ اس نے کچھ نہ کیا، لیکن جب میں نے دیکھا کہ سونڈ جو پہلے لٹک رہی تھی وہ یک دم میرے سامنے آ گئی، اس وقت میں گھبرا کر تھوڑا پیچھے ہٹا۔پھر مجھے اندازہ ہوا کہ اس کی سونڈ بھی کوئی چیز ہوتی ہے، چونکہ ہم نے زندگی میں پہلی دفعہ ہاتھی دیکھا تھا اس لیے اس کو ہم بڑے حیران ہو کر دیکھتے رہے۔اس سرکس میں ہم نے ہپناٹزم کا ایک شو دیکھا، ایک بوڑھے آدمی نے ہپناٹزم کا کرتب دکھایا، وہ بڑا عجیب کرتب تھا، اٹھارہ بیس سال کی ایک جوان لڑکی تھی وہ ایک دروازے سے بھاگی ہوئی آئی، اس کے ہاتھ میں لوہے کے دو نیزے تھے، وہ ان کو ہاتھ میں لے کر سب کو دکھاتی پھر رہی تھی، وہ نیزے آگے سے اتنے تیز تھے کہ ہمارے قریب ایک آدمی بیٹھاتھا، اس نے ان کو چیک کرنے کے لیے ہاتھ لگایا تو اس کے ہاتھ سے خون نکل آیا، وہ دکھا بھی رہی تھی کہ دیکھو یہ آگے سے کتنے تیز ہے، جب اس نے وہ نیزے سارے مجمع کو دکھائے تو ایک اونچی سی جگہ پر آ کر وہ کھڑی ہوگئی، اب وہ بوڑھا میاں آیا اور اس نے آ کر اس کی طرف دیکھا اور کچھ پڑھنے لگا، وہ اس کی طرف بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔میں کون؟۔۔۔ عامل۔۔۔ تو کون؟۔۔۔ معمول۔۔۔ وہ اس کی طرف برابر دیکھتا رہا، میں نے دیکھا کہ تھوڑی دیر کے بعد لڑکی کو غشی آنے لگی،
اب اس بوڑھے آدمی نے اس کی ایک بغل میں ایک نیزہ دیا اور دوسری بغل میں دوسرا اور لڑکی جب وہ نیزے دکھا رہی تھی تو اس وقت اپنی بغلیں بھی دکھا رہی تھی کہ میری بغلوں میں کچھ بھی نہیں ہے۔وہ لڑکی پہلے تو سیدھی کھڑی تھی، اس کے بعد نیزوں پر آگئی یوں اس کا پورا وزن ان دونوں نیزوں پر آگیا، پھر وہ کچھ پڑھتا رہا، پڑھتا رہا، جب وہ اچھی طرح سے بے ہوش ہو گئی تو اس بوڑھے نے اس کے نیچے سے دو تین فٹ اونچی لکڑی نکالی جس پر وہ کھڑی تھی، ہم بہت حیران ہوئے،
اب وہ لڑکی دونوں نیزوں کے اوپر لٹکی ہوئی تھی، اس کے بعد وہ اپنا عمل کرتا رہا، پھر اس نے ایک عجیب کام کیا کہ تھوڑی دیر کے بعد وہ آیا اور اس کی ایک طرف کو اٹھا کر ایک نیزہ نکال دیا، پھر ایک نیزے کے اوپر پوری لڑکی لٹکی ہوئی تھی۔سائنس پڑھنے والے آج تو اس بات کو سمجھ سکتے ہیں لیکن ہم تو اس وقت بچے تھے اس لیے ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں تھی، البتہ ہمیں یہ عجیب سا لگ رہا تھا کہ اس کی ایک بغل کے نیچے نیزہ اور اس کے اوپر ہوا میں پوری لڑکی لٹکی ہوئی ہے۔
اس کے بعد وہ پھر پڑھتا رہا، بالآخر اس نے اس کی دونوں ٹانگیں پکڑیں اور اس کو ہوا میں ہی سیدھا کر دیا، اب وہ ہوا میںیوں لٹکی ہوئی تھی جیسے کوئی لڑکی بیڈ کے اوپر لیٹی ہوتی ہے، یہ اس کے کرتب کا آخری مرحلہ تھا، چنانچہ وہ دوچار منٹ تک اسی طرح ہوا میں لٹکی رہی اور وہ بندہ اسے دیکھتا رہا اور تالیاں بجتی رہیں، تھوڑی دیرکے بعد اس نے اس کو پھر اسی طرح واپس کیا اور وہ ایک نیزے پر لٹکنے لگی پھر اس نے دوسرا نیزہ نیچے لگا دیا،
پھر اس کے بعد اس نے کچھ پڑھا، پھر اس کے نیچے لکڑی رکھ دی پھر اس کی حالت ایسی تھی جیسے کوئی بندہ کے بے ہوشی سے باہر آتا ہے، اسے اتنا پسینہ آیا ہوا تھا کہ اس کے پورے چہرے پر پسینے کے قطرے تھے، اس کے کپڑے بھی پسینے سے شرابور ہوچکے تھے، اس وقت وہ ہم سے پانچ سات فٹ کے فاصلے پر تھی، پھر دو عورتیں آئیں اور وہ اس کو پکڑ کر لے گئیں، وہ اتنی تھک چکی تھی کہ اس کے لیے پاؤں اٹھانے بھی مشکل ہو رہے تھے،
یہ ہپناٹزم کا کرتب میں نے اپنی زندگی میں خود دیکھا۔اچھا، جب اس نے لڑکی کو ہوا میں لٹا دیا تو اس وقت مجھے اپنے والد صاحب کی ایک بات یاد آ گئی، انہوں نے ایک دفعہ جادوگروں کا ایک واقعہ سنایا تھا اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ یہ جادوگر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کرتے ہیں، حقیقت میں وہ چیز ایسی نہیں ہوتی جیسی نظر آ رہی ہوتی ہے، مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب مجھے ابا جان کی وہ بات یاد آئی تو میں اپنی آنکھوں کو ملنے لگا کہ مجھے یہ دھوکا ہو رہا ہے یا واقعی ایسے ہی ہے،
یہ واقعی ایسے ہی تھا کہ وہ لڑکی ایک نیزے کے اوپر لیٹی ہوئی تھی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟۔۔۔ یہ ایسے ہوا کہ اس بندے نے اپنی قوت کو ایک جگہ پر یکجا کرکے اس کو دوسرے پر لاگو کرنا سیکھ لیا تھا، لہٰذا اس نے اس لڑکی کو اپنی نظر کے سہارے پر رکھا ہوا تھا۔جب ہم یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو ان دنوں ہم سید زوار حسین شاہؒ کی خدمت میں کراچی حاضر ہوئے، حضرت سید زوار حسین شاہؒ ایک بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے، میں نے ان کو یہ واقعہ سنا کر عرض کیا، حضرت! میں نے یہ واقعہ خود دیکھا ہے لیکن مجھے آج تک اس کی حقیقت سمجھ میں نہیںآئی، حضرتؒ نے فرمایا: یہ کوئی جادو نہیں ہے بلکہ اس بندے نے یہ سب کچھ اپنی قوت ارادی کو مرکوز کرنے کی وجہ سے کیا۔



















































