اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

کہیں مسخ نہ ہو جائے یہ دل

datetime 11  اپریل‬‮  2017 |

زمانۂ جاہلیت میں ایک مرد و عورت تھے، عورت کا نام نائلہ اور مرد کا نام اِساف، دونوں کے ناجائز تعلقات تھے، دونوں طواف کرنے کے لیے آئے اور بیت اللہ شریف کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ مشغول ہو گئے، اللہ رب العزت کا غضب ہوا کہ دونوں پتھر بن گئے، اب اہلِ مکہ نے دیکھا تو ان کو بڑا غصہ آیا کہ ایک تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اوردوسرے بیت اللہ شریف کے اندر،

انہوں نے مشورہ کیا کہ ان دونوں کو ایسی سزا دینی چاہیے کہ جو اس سے پہلے کسی کو کبھی نہ دی گئی ہو، مشورہ کیا، مل کر بیٹھے، کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ، ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ دیکھو حج کا عمل قیامت تک رہے گا، ہم ان میں سے ایک کو صفا پر رکھ دیتے ہیں اور ایک کو مروہ پر رکھ دیتے ہیں، جو حج اور عمرہ کرنے کے لیے آئے گا وہ سعی کرنے کے لیے ان دونوں مقام پر آئے گا، لہٰذا صفا پر جو جائے وہ اس کو جوتے مارے اور جو مروہ پر جائے اس کو جوتے لگائے، قیامت تک اس کو ذلت ملتی رہے گی، اپنے دماغ سے انہوں نے کیا بات سوچی؟ لیکن اس بات کو بھول گئے کہ شریعت کے ایک حکم میں ہم کسی چیز کا اضافہ کر رہے ہیں، سعی کا یہ حصہ تو نہیں مگر انہوں نے اعمالِ سعی کا حصہ بنا دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دوپشت تک تو اِدھر جوتا مارتے، اُدھر جوتا مارتے، کسی کے پاس جوتا نہیں ہوتا تو وہ ادھر تھپڑ لگاتے، اُدھر تھپڑ لگاتے، جب ان کی اولاد آئی تو انہوں نے سوچا کہ بھئی اصل تو اُس کو ہاتھ لگانا ہے اور اِس کو بھی ہاتھ لگانا ہے، چنانچہ جب وہ صفا پر چڑھتے تو اس کو ہاتھ لگاتے اور جب مروہ پر چڑھتے اس وقت اس کو ہاتھ لگاتے، آنے والی نسل نے سوچا کہ یہ کوئی بزرگ بندے ہیں، برکت کے لیے لوگ ہاتھ لگاتے ہیں، کچھ ہوتے ہیں، ضعیف الاعتقاد، انہوں نیے کہا کہ یہ کوئی نیک بزرگ گزرے ہیں،

لہٰذا صرف برکت کے لیے ہاتھ لگانے کے بجائے انہوں نے چومنا بھی شروع کر دیا، صفا پر اس کو چومتے اور مروہ پر اس کو چومتے، حتیٰ کہ بعض وہاں دعائیں مانگتے، رفتہ رفتہ یہاں تک بات پہنچی کہ نبی کریمؐ تشریف لائے تو کفار و مشرکین حج کے دوران صفا پر جاتے تھے تو اس کو سجدہ کرتے اور مروہ پر جاتے تو اس کو سجدہ کرتے تھے، اب دیکھئے یہ شرک و بدعت شروع کہاں سے ہوئی، اور کتنا بھیانک اس کا انجام نکلا۔۔۔ تو گناہ اور بدعت و خرافات کی وجہ سے جس طرح وہ مسخ ہو گئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ معصیت و غفلت کی وجہ سے ہمارا دل مسخ اور سخت ہو جائے، اس لیے اپنے ہر عمل پرنظر رکھئے اور قلب کو یاد الٰہی سے منور کیجئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…