جیسے بچے کا تعلق ماں سے ہوتاہے کہ وہ ہر چیز میں اپنی ماں کی طرف دیکھتا ہے، مومن کا تعلق بھی اسی طرح اپنے پروردگار کے ساتھ ہوتا ہے، وہ ہر معاملہ میں اللہ پر نظر رکھتا ہے، ایک بزرگ کسی کے ہاں تشریف لائے ہوئے تھے، صاحب خانہ اپنے بچے کو اٹھا لے آیا، ان کے پاس کوئی میٹھی چیز تھی،
انہوں نے وہ بچے کی طرف بڑھائی، مگر بچے نے لینے سے انکار کر دیا، دوبارہ کہا کہ لے لو! لیکن بچے نے پھر بھی انکار کر دیا، اب یہ بڑی عجیب بات ہے، حالانکہ بچے کے اندر میٹھی چیز کھانے کی شدید طلب ہوتی ہے، اس کی گروتھ کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ میٹھا کھائے، اس لیے بچے میٹھی چیز کے پیچھے پاگل ہو کر بھاگتے ہیں۔۔۔ لیکن جب ان بزرگوں نے بچے کو میٹھی چیز پیش کی تو اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور مٹھائی لینے سے انکار کر دیا۔جب دو مرتبہ ان بزرگوں نے اس سے کہا تو بعد میں باپ نے بچے کو کہا: بیٹا لے لو! یہ ہمارے حضرت جی ہیں، یعنی باپ نے بچے کو اجازت دی تو پھر بچے نے وہ مٹھائی لے لی، اس پر ان بزرگوں کی آنکھوں سے آنسو آ گئے، یہ دیکھ کر وہ صاحب خانہ معذرت کرنے لگا: جی! بچے نے بدتمیزی کر دی اور آپ سے مٹھائی نہیں لی، آپ اس کو محسوس نہ فرمائیں، وہ کہنے لگے، نہیں نہیں، اس وجہ سے آنکھ سے آنسو نہیں آئے، بلکہ مجھے یہ خیال آیا کہ اس کے اندر میٹھا کھانے کی چاہت بھی ہے، پھر بھی جب میں نے اس کو ایک دو دفعہ مٹھائی پیش کی تو اس نے اپنے ’’ابا‘‘ کو دیکھا، کاش! میرا بھی ایمان ایسا ہوتا کہ میں بھی ہر معاملہ میں اپنے ’’ربا‘‘ کو دیکھ لیتا۔۔۔ جب بچے کو باپ کی معیت اور دیکھنے کا اس قدر خیال، تو کیا ہم اہل سلوک خدا پاک کی معیت اور ہر دم دیکھنے کا استحضار نہیں کر سکتے، کیا بچے سے بھی گئے گزرے ہو گئے۔



















































