حضرت خواجہ باقی باللہؒ دہلی میں رہتے تھے ان کی خانقاہ میں ایک نانبائی حضرت کی خدمت کیا کرتاتھا، خصوصاً جب بھی کوئی وقت بے وقت مہمان آ جاتا تو وہ مہمانوں کی خاطر مدارات کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر حاضر ہو جاتا، حضرت اس سے بہت خوش تھے۔ایک مرتبہ حضرت خواجہ صاحب کے یہاں کچھ اہم مہمان آ گئے،
اس نان بائی نے دیکھا کہ موسم خراب ہے مگر کچھ نیک قسم کے مہمان بے وقت آئے ہیں تو اس نے کھانا پکا کر حضرت خواجہ باقی باللہ صاحب نوراللہ مرقدہ کی خدمت میں پیش کیا، حضرت خواجہ صاحب نے پوچھا یہ کیاہے؟ اس نے عرض کیا کہ حضرت کے یہاں مہمان آئے ہیں میں ان کے لیے کھانا لایا ہوں، قبول فرما لیں، حضرت کو بہت ہی مسرت ہوئی اور بے اختیار فرمایا کہ مانگ کیا مانگتا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ مجھے اپنے جیسا بنا دیجئے، حضرت نے تھوڑی دیر تامل کرکے فرمایا کہ کچھ اور مانگ لو، طباخ نے کہا کہ نہیں حضرت بس یہی کچھ چاہیے، متواتر تین مرتبہ جب یہی اصرار کیا تو چونکہ حضرت زبان مبارک سے یہ فرما چکے تھے کہ مانگ کیا مانگتا ہے، اس لیے اس کو حجرے مبارک میں لے گئے، اندر سے زنجیر لگا لی، نہ جانے پھر وہاں کیسی توجہ دی کہ آدھ گھنٹے کے بعد جب حجرہ کھول کر باہر تشریف لائے تو دونوں کی صورت تک ایک ہو گئی تھی، فرق صرف اتنا تھاکہ حضرت خواجہ صاحب جیسے حجرے میں گئے تھے ویسے ہی باہر تشریف لے آئے لیکن وہ طباغ مدہوشی کی حالت میں تھا اور کچھ دیر بعد اسی حالت میں انتقال ہو گیا، موت تو آنی ہی تھی اس کا وقت مقرر تھا اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی تھی، لیکن اس کی خوش قسمتی کہ ساری عمر تو طباخی کی اور موت کے وقت اس نے خواجہ باقی باللہ بن کر آخرت کے بھی مزے لوٹے۔۔۔ اللہ والوں کی صحبت، ان کی توجہ اور پراثر نگاہ سے انسان کی کایا پلٹ جاتی ہے اور ظاہر و باطن کا رنگ بدل جاتا ہے۔



















































