ایک صاحب نے عجیب سی بات سنائی، اچھی لگی، آپ لوگوں کو بھی سنا دیتے ہیں، کہنے لگے کہ حلوائی دودھ کو آگ پر گرم کرکے جب اس کی ملائی بناتے ہیں تو پہلے اس میں پانی ڈالتے ہیں، حلوائی لوگ جوکڑاہی میں دودھ ڈال کر گرم کرتے ہیں، وہ فقط دودھ نہیں ہوتا بلکہ اس میں پانی بھی ملاتے ہیں، کیونکہ وہ پک کر خشک ہوتا ہے اور ملائی بن جاتی ہے،
وہ عالم فرمانے لگے کہ جب حلوائی دودھ میں پانی ڈالنے لگا تو پانی اور دودھ کے درمیان مکالمہ ہوا۔دودھ نے کہا: جناب! میرا رنگ بھی گورا، سفید چٹا! میری قیمت بھی اعلیٰ، میرا ذائقہ بھی بہترین، میرے اندر غذائیت بھی بہت زیادہ ہے، اے پانی! تیرے اندر تو ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں، نہ تیری شکل ہے، نہ تیری قیمت، نہ تیرا ذائقہ ہے، تو کیوں مجھ میں شامل ہو رہا ہے؟ میرے اور تیرے درمیان بڑا فرق ہے، میں اعلیٰ ہوں، تو ادنیٰ ہے، میرا تیرا کیا جوڑ؟ بھئی!پانی نے کہا: دودھ صاحب! بات آپ کی بالکل ٹھیک ہے ، آپ اعلیٰ، آپ کی قیمت اعلیٰ، آپ کے طلب گار زیادہ لوگ ہیں، آپ کی قیمت بھی بہت ہے اور آپ کی غذائیت بھی بہت ہے اور میں کم قیمت ہوں، میری شکل دیکھنے میں اتنی اچھی نہیں، ذائقہ بھی کوئی نہیں، میں ادنیٰ ہوں اور آپ اعلیٰ لیکن مجھے اپنے اندر شامل ہونے دیں اس لیے کہ میں وفادار ہوں، میں اگر آپ میں شامل ہوا تو وفا کروں گا۔دودھ نے کہا: اچھا! آپ میں وفا بڑی ہے، بھئی ذرا بتاؤ تو سہی کہ وہ وفا کیسے ہوگی۔پانی نے کہا: جناب! وفا ایسی کہ جب آپ کو آگ پر رکھ کر گرم کریں گے تو جب تک میرا آخری قطرہ پہلے بھاپ نہیں بن جاتا، میں اس وقت تک آپ کو آنچ نہیں آنے دوں گا۔(جب دودھ میں پانی ڈال کر آگ پر پکاتے ہیں تو پہلے پانی اڑتا ہے، بعد میں دودھ کی باری آتی ہے)تو پانی نے کہا: جناب! میرے میں وفا ایسی کہ پہلے میں آگ کی غذا بنوں گا اور جب تک میں موجود رہوں گا،
اس وقت تک آپ بھاپ نہیں بن سکتے، اس لیے مجھے ملنے دیجئے۔دودھ نے کہا: اچھا پھر آؤ، مجھے گلے ملو، تم اتنے وفادار ہو! مگرایک بات میری بھی سن لو! جب تم نے مجھے گلے لگانے کی کوشش کی وفا کے ساتھ، تو پھر ایک بات ذہن نشین رکھو کہ جس قیمت پر میں بکا کروں گا، قیمت تمہاری بھی وہی لگے گی، جب پانی دودھ سے ملا تو پانی کی قیمت دودھ کے ساتھ لگ گئی، اگر ہم اللہ پاک سے سچی محبت کرنے والوں کے ساتھ مل جائیں تو انشاء اللہ ہماری بھی وہی قیمت لگے گی جو عاشقانِ خدا کی ہو گی۔



















































