اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک درخواست

datetime 10  اپریل‬‮  2017 |

قدرت الله شہاب اپنی کتاب میں ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ جمعہ کی نماز کے بعد میں اسی بوسیدہ سی مسجد میں بیٹھ کر نماز پڑھتا رہا۔کچھ نفل میں نے حضرت بی بی فاطمہؓ کی روح مبارک کو ایصال ثواب کی نیت سے پڑھے پھر میں نے پوری یکسویٴ سے گڑ گڑا کر یہ دعا مانگی :“یا اللہ میں نہیں جانتا کہ یہ داستاں صحیح ہے یا غلط لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ تیرے آخری رسولﷺ کے دل میں اپنی بیٹی خاتون جنت کے لیےٴ

اس سے بھی زیادہ محبت اور عزت کا جذبہ موجزن ہو گا۔اس لیے میں اللہ تعالی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ حضرت فاطمہؓ کی روح طیبہ کو اجازت مرحمت فرمائیں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں پیش کر کے منظور کروا لیں۔ درخواست یہ ہے کہ میں اللہ کی راہ کا متلاشی ہوں۔سیدھے سادھے مروجہ راستوں پر چلنے کی سکت نہیں رکھتا۔اگر سلسلہ اویسیہ واقعی ہی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے تو اللہ کی اجازت سے مجھے اس سلسلہ سے استفادہ کرنے کی ترکیب اور توفیق عطا فرمائی جائے۔ اس بات کا میں نے اپنے گھر میں یا باہر کسی سے ذکر تک نہ کیا۔چھے سات ہفتے گزر گیے اور میں اس واقعے کو بھول بھال گیا۔پھر اچانک سات سمندر پار کی ایک جرمن بھابی کا خط ماصول ہوا۔وہ مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں اور نہایت اعلی درجہ کی پابند صوم و صلوة خاتون تھیں۔انہوں نے لکھا تھا۔The other night I had the good fortune to see ‘Fatima’ daughter of Hazrat Muhammad (PBUH) in my dream,she talked to me most graciously and said, ‘tell your brother-in-law Qudrat ullah Shahab that I have submitted his request to my exalted Father who has very kindly accepted it’۔
یہ خط پڑھتے ہی میرے ہوش و حواس پر خوشی اور حیرت کی دیوانگی سی طاری ہو گئی مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ میرے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے بلکہ ہوا میں چل رہے ہیں۔

یہ تصور کہ اس برگزیدہ محفل میں ان باپ بیٹی کے درمیان میرا ذکر ہوا، ۔کیسے عظیم باپ صلی اللہ علیہ وسلم اور کیسی عظیم بیٹی۔دو تین دن میں اپنے کمرے میں بند ہو کر دیوانوں کی طرح اس مصرع کی مجسم صورت بنا بیٹھا رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…