مِصر کے رہنے والے حضرت ذوالنون مصری علیہ الرحمتہ جو حضرت مالک بن انسؓ کے شاگرد تھے کے دور میں دریائے نیل خشک ہو گیا لوگ شہر چھوڑ کر پہاڑوں کی طرف نِکل گئے اور رو رو کر دعائیں مانگتے رہے، اتنا روئے کہ اُن کے آنسوؤں کی ندی تو بہہ نکلی لیکن بارش نہ ہوئی کچھ لوگ حضرت کے پاس بھی دعا کے لئے گئے آپؒ نے دعا کرنے کی بجائے مِصر شہر چہوڑا ادھر بارش شروع ہوگئی۔آپؒ کو بیس دِن بعد مدین میں اطلاع ملی کہ مصرمیں خوب بارش ہوئی ہے اور خوشحالی آگئی ہے
چنانچہ آپؒ واپس مِصر تشریف لے آئے ایک عارف نے تنہائی میں آپؒ سے پوچھا کہ دعا کرنے کی بجائے مصر چہوڑ کر چلے جانا آپؒ نے کیوں پسند کیا؟ آپؒ نے فرمایا: میں نے سُنا ہے بُروں کے بُرے اعمال کی وجہ سے پرندوں، درندوں کا رزق تنگ ہو جاتا ہے، میں نے غور کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکالا کہ مصر میں مجھ سے زیادہ کوئی گنہگار نہیں ہے میں یہاں سے نکلوں گا تو اللہ کی رحمت نازل ہو جائے گی۔



















































