ایک بزرگ جا رہے تھے۔ کچھ بچے آپس میں بحث کر رہے تھے۔ جب قریب سے گزرے تو وہ بچے کہنے لگے۔ بابا جی ہم آپس میں کسی مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں، آپ ذرا فیصلہ کر دیں۔ اس نے کہا بیٹا کیا مسئلہ ہے۔ بچے نے کہا کہ ہم آپس میں بحث کر رہے ہیں کہ ایک آدمی بڑا نیک ہو، کبھی گناہ نہ کیا ہو، اس کے دل پر اللہ کی خاص نظر رہتی ہے یا ایک آدمی بڑا ہی گناہ گار ہو اور سچی توبہ کر لے اس کے دل پر خاص نظر رہتی ہے۔ وہ بزرگ فرمانے
لگے، بیٹا! میں عالم تو نہیں ہوں، تاہم ایک بات میرے تجربے میں آئی ہے کہ میں کپڑا بنتا ہوں، کھڈی چلاتا ہوں، دھاگے ہوتے ہیں۔ میرے تجربے میں بات آئی ہے کہ جو دھاگہ ٹوٹ جاتاہے میں اسے گرہ لگاتا ہوں۔ اس کے بعد اس پر خصوصی نظر رکھتا ہوں کہ دوبارہ ٹوٹ نہ جائے۔ ممکن ہے جو بندہ شیطان کے راستہ کو چھوڑ کر سچی توبہ کر لے اللہ سے اپنی گانٹھ باندھ لے ممکن ہے اس کے دل پر اللہ کی خاص نظر رہتی ہو کہ یہ بندہ دوبارہ نہ ٹوٹ جائے۔



















































