ایک بوڑھی عورت تھی، بے چاری نادار تھی، معذور سی تھی۔ روٹی نہیں ملتی تھی۔ تڑپتی تھی، گھروں سے جا کر مانگتی تھی۔ کبھی کسی کے پاس ہوتا تو دے دیتا اور جس کے پاس نہ ہوتا تو وہ کہتا کہ اچھا بی بی اللہ دے گا۔ اللہ کی شان کہ اس بڑھیا کی وفات ہو گئی۔ کسی نے خواب میں زیارت کی۔ پوچھا کہ کیا ہوا؟ کہنے لگی کہ میں اللہ کے حضور پیش ہوئی۔ فرشتوں نے مجھ سے پوچھا
کہ کیا لائی؟ میں رونے لگ گئی۔ میں نے کہا کہ دیکھو ساری زندگی در در کی ٹھوکریں کھاتی رہی۔ جدھر ہاتھ پھیلاتی تھی وہ کہتا تھا، اللہ دے گا۔ اب میں اللہ کے حضور میں آئی ہوں تو میں تو ساری عمرسنتی رہی اللہ دے گا۔ اللہ دے گا اور تم پوچھتے ہو کیا لے کر آئی؟ تو مجھے اللہ کب دے گا؟ اس کی بات اللہ کو پسند آئی۔ کہتے ہیں اسی پر اللہ نے گناہوں کی مغفرت کر دی۔ پس مانگنا ہمارا کام ہے۔



















































