چنانچہ عبداللہ بن مبارکؒ جوانی میں کسی عورت کے ساتھ تعلقات بنا بیٹھے حتیٰ کہ اس کو کہا کہ ملنے کے لیے کوئی وقت نکالو۔ اس نے کوئی رات کا وقت دیا۔ یہ ساری رات انتظار میں رہے مگر ملاقات نہ ہو سکی۔ اسی حالت میں صبح کی اذان ہو گئی۔ جب اذان ہو گئی تو دل پر چوٹ لگی کہ میں ایک عورت کی وجہ سے ساری رات جاگتا رہا۔ مجھے اس عورت کا بھی ملاپ نصیب نہ ہوا۔ کاش میں اللہ رب العزت کی محبت میں
ساری رات جاگتا تو مجھے اللہ اپنی ولایت نصیب فرما دیتے۔ یہ سوچ کر دل میں پکی توبہ کر لی اور علم حاصل کرنے کے لیے علماء کی ایک بستی کی طرف چل پڑے، چنانچہ جب شہر سے باہر نکلے، ایک اور بزرگ بھی اس بستی کے قریب جا رہے تھے سخت گرمی کے عالم میں یہ بادل کے سایہ میں چلتے رہوے، یہ سمجھتے رہے کہ شیخ کی برکت ہے کہ بادل کا سایہ ہے اور شیخ بھی یہی سمجھتے رہے کہ اوپر اللہ کی رحمت ہوئی کہ بادل کا سایہ ہے لیکن جب اپنی اپنی منزل کی طرف جاتے ہوئے دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو اس شیخ کی حیرت کی انتہا نہ رہی بادل کا سایہ ہے لیکن جب اپنی اپنی منزل کی طرف جاتے ہوئے دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو اس شیخ کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بادل کا سایہ تو عبداللہ بن مبارک کے سر پر تھا۔ وہ واپس لوٹے اور عبداللہ بن مبارک کو پکڑ کر کہا کہ مجھے اللہ کے لیے بتائو کہ تم نے کون سا عمل کیا ہے کہ اللہ نے گرمی کی شدت سے حفاظت کے لیے تیرے سر پر بادل کا سایہ کر دیا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کہا کہ میں نے ایک گناہ سے سچی توبہ کی اور میں نیک بننے کے لیے علماء کی بستی کی طرف چل پڑا۔ میرا پروردگار کتنا قدر دان ہے کہ اس نے دنیا کی دھوپ میں بچنے کا انتظام کر دیا، میں امید کرتاہوں کہ وہ جہنم کی آگ سے بھی محفوظ فرما دے گا۔ تو جو پروردگار اتنا قدر دان ہو کہ آدمی اگر گناہوں سے سچی توبہ کر لے تو پروردگار دنیا کی تپش سے بچا دیتاہے تو پھر جہنم کی آگ اسے انہیں کیوں محفوظ نہیں فرمائے گا۔



















































