حدیث پاک میں آیا ہے کہ ایک صحابیؓ نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، اے اللہ کے نبیؐ میرا ایک اونٹ ہے، میں سارا دن محنت مزدوری کرتا ہوں، اس اونٹ پر سامان لادتا ہوں، اور میں اس کے دانے پانی کا پورا پورا خیال رکھتا ہوں، لیکن جب میں رات کو آ کر سوتا ہوں تو کبھی کبھی وہ ایسی درد ناک آواز نکالتا ہے کہ میری آنکھ نہیں لگتی، اب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں،
آپ دعا فرما دیجئے کہ اونٹ مجھے رات کو سونے دیا کرے۔ نبی اکرمؐ نے جب یہ بات سنی تو آپؐ نے فرمایا کہ ہم نے مدعی کی بات سن لی، اب ہم مدعا علیہ کو بھی بلائیں گے۔ چنانچہ اونٹ کو بلانے کا حکم دیا گیا، کتابوں میں لکھا ہے کہ جب اونٹ کو پیغام دیا گیا تو اونٹ بڑے ادب و احترام کے ساتھ چلتا ہوا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا، وہ نبی اکرمؐ کے سامنے آ کر التحیات کی شکل میں بیٹھ گیا، نبی اکرمؐ نے اونٹ سے ارشاد فرمایا کہ تیرا مالک تیری شکایت بیان کر رہا ہے کہ وہ تیرے دانے پانی کا خیال رکھتا ہے لیکن تو اس کا خیال نہیں رکھتا ہے لیکن تو اس کا خیال نہیں رکھتا اور رات کو ایسی آوازیں نکالتا ہے کہ جس سے تیرے مالک کی نیند خراب ہوتی ہے، یہ کیا معاملہ ہے؟ یہ سن کر اونٹ کی آنکھوں سے آنسو آ گئے اور کہنے لگا، اے اللہ کے محبوبؐ معاملہ یہ ہے کہ ہم دونوں سارا دن محنت مزدوری کرتے ہیں، یہ میرا خیال رکھتے ہیں اور میں ان کا خیال رکھتا ہوں، یہ بوجھ لادتے ہیں اور میں لے کر پہنچاتا ہوں، یہ مجھے دانہ بھی دیتے ہیں ہم دونوں ایک دوسرے کے اچھے ساتھی ہیں، نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جب اچھے ساتھی ہو تو پھر اس کو سونے کیوں نہیں دیتے؟ وہ کہنے لگا، اے اللہ کے نبیؐ معاملہ یہ ہے کہ کئی مرتبہ یہ تھکے ہوئے گھر آتے ہیں، مغرب کے بعد کھانا کھاتے ہیں، اس وقت کبھی کبھی ان پر نیند غالب آ جاتی ہے تو دل میں سوچتے ہیں کہ میں تھوڑی دیر کے لیے کمر سیدھی کر لوں پھر میں اٹھ کر عشاء کی نماز پڑھ لوں گا،
لیکن جب کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹتے ہیں تو نیند گہری ہو جاتی ہے، انہوں نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی ہوتی، رات کو کافی دیر ہو جاتی ہے، چونکہ میں قریب ہوتا ہوں اس لیے مجھے نیند نہیں آتی کہ اگر ان کی نماز قضاء ہو گئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھیں کہ تو نے اپنے اپنے ساتھی کو کیوں نہیں جگایا تھا تاکہ وہ میرے حکم کی پابندی کر لیتا، اے محبوبؐ تھکاوٹ کی وجہ سے میرے اوپر بھی نیند کا غلبہ ہوتا ہے مگر میں اللہ تعالیٰ کی جلالت شان کی وجہ سے ڈرتا ہوں اور درد ناک آوازیں نکالتا ہوں کہ میرے مالک! اٹھ جا اوراپنے مالک کی بندگی کر لے۔



















































