اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

رزقِ حلال کے متلاشی وکیل کی سبق آموز داستان

datetime 8  اپریل‬‮  2017 |

پیر ذوالفقار نقشبندی ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ہمارے ایک دوست وکالت کا کام کرتے تھے۔ وکالت ایک ایسا پیشہ ہے کہ جہاں پر دنیا بھر کے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ایک شاعر نے تو یہاں تک کہہ دیا۔
پیدا ہوئے وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

مگر یقین کیجئے کہ انہوں نے وکالت کا کام بھی جاری رکھا اور اپنی زندگی کا رخ بھی بدل لیا۔ ان کی بیوی لیڈی ڈاکٹر تھی۔ جب وکیل صاحب کی اہل اللہ سے نسبت ہوئی تو اللہ نے دل کی حالت بدل دی۔ کہنے لگے مجھے آج کے بعد جھوٹ نہیں بولنا ہے۔ میرا اللہ مجھے سچ بولنے پر روزی دے گا۔ لوگوں نے کہا، آپ کا دماغ ٹھیک تو ہے؟ سچ بولنے سے وکالت نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا چلے گی یا نہیں چلے گی، مگر سچ ضرور چلے گا۔ اب تو میں نے دل میں فیصلہ کر لیا ہے۔ چنانچہ وکیل ایک دن دفتر آئے اور کہنے لگے کہ مجھے آج صرف وہ مقدمے لینے ہیں جو سچے ہوں گے۔ لوگوں سے کہہ دیا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو مجھے بھی بتا دیں وگرنہ سماعت کے دوران اگر مجھے پتہ چل گیا تو میں آپ کی مخالفت کروں گا۔ اگر سچ ہوگا تو ڈٹ کر آپ کی حمایت کروں گا۔ لوگوں نے کہا، اللہ کی پناہ! چنانچہ سب کے سب دوسرے وکلاء کے پاس چلے گئے۔ وکیل صاحب کا دفتر خالی، سارا دن کوئی کام نہیں آ رہا۔ اسی حالت میں کئی مہینے گزر گئے۔ لوگوں میں چرچا ہونے لگ گیا۔ کسی نے مجنون کہا، کسی نے پاگل کہا، کسی نے بے وقوف کہا، کسی نے کہا کہ مولویوں نے اس کی مت مار دی ہے۔ اچھا خاصا وکیل تھا انہوں نے بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔
وہ اللہ کا بندہ پکا اور سچا تھا۔ کہتا تھا کہ مجھے جھوٹ بول کر روزی نہیں لینی۔ اللہ کی ذات مجھے سچ بولنے پر ہی روزی دے گی۔ ایک سال گزر گیا مگر کوئی کام نہ آیا،

چونکہ بیوی لیڈی ڈاکٹر تھی اس کی تنخواہ سے گھر کا خرچہ چلتا رہا۔ بیوی بہت سمجھ دار تھی۔ ایک دن وکیل صاحب سے کہنے لگی۔ جب آپ جھوٹ بولنا چھوڑ چکے ہیں تو آپ وکالت کو خیرباد کہیں اور تجارت کا پیشہ اختیار کر لیں۔ آپ سچ بولیں۔ اللہ اسی میں برکت دے گا۔ وکیل صاحب نے کہا نہیں۔ بولنا بھی سچ ہے اور کرنی بھی وکالت ہے۔ بیوی نے کہا، اچھی بات ہے۔ میری دعائیں اور میرا تعاون آپ کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب فرمائے۔ وکیل صاحب ایک سال تک گھر سے دفتر آتے اور سارا دن پنکھے کے نیچے بیٹھ کر اخبار پڑھتے اور گھر واپس چلے جاتے۔ ایک دفعہ ججوں کے سامنے چرچا ہو گیا کہ فلاں وکیل جھوٹے مقدمے نہیں لیتا۔ غربت برداشت کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ مر جائوں گا مگر سچ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ سب جج صاحبان اس بات سے بہت متاثر ہوئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی عزت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونا شروع ہو گئی۔ وہ کہنے لگے کہ ایک سال امتحان کا تھا۔ دوسرا سال شروع ہواتو تبلیغی جماعت والے ’’تصوف و سلوک والے‘‘ مدرسوں والے لوگوں نے سوچا کہ یار فلاں وکیل سچے مقدمے لیتا ہے۔ ہمارے مقدمے سچے ہیں۔ پیسہ ہمارے پلے نہیں۔ تھوڑا بہت دے دیں گے ان کا بھی گزارا ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ آنے شروع ہو گئے۔ جو بھی آتا سچا مقدمہ لے کر آتا۔ وکیل صاحب مقدمہ لے کر عدالت میں جاتے اور ان کے حق میں فیصلہ ہو جاتا۔ تیسرا مقدمہ آیا۔ ان کے حق میں فیصلہ آیا۔ چند دن گزرے تو جج صاحبان آپس میں ملے اور کہنے لگے کہ یہ وکیل جو بھی مقدمے لاتا ہے وہ سچے ہوتے ہیں۔ اس لیے اب اس سے زیادہ سوال ہی نہ کیا کرو۔

چنانچہ وکیل صاحب مقدمہ لے کر جاتے تو چند منٹ کے اندر اندر ان کے حق میں فیصلہ ہو جاتا۔ بڑے بڑے امیروں نے سوچا کہ ہمارے مقدمے سچے ہی ہیں تو پھر کیوں نہ ہم مقدمہ اسی کو دیں۔ جب وہ آنا شروع ہوئے تے پیسے بھی زیادہ ملنے لگے۔ جب وکیل صاحب جھوٹ بولتے تھے تو ایک مہینے کے بیس ہزار روپیہ کماتے تھے اور جب سچ بولنا شروع کیا تو ایک ماہ میں چالیس ہزار روپیہ کمانے لگے۔ سچ بولنے پر اللہ نے دوگنا رزق دے دیا۔ ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ چند وکیلوں کا جج بننے کے لیے امتحان ہوا تو ہمارے اس وکیل دوست کو کامیابی ہوئی، اور وہ جج بن گئے۔ ایک وقت تھا کہ وہی آدمی ایک وکیل کی جگہ کھڑے ہو کر جھوٹ بولتا تھا، جب سچ بولنا شروع کیاتو اللہ نے اس کو عدالت کی کرسی پر بٹھا دیا۔ پہلے وہ کھڑا سرسر کر رہا ہوتا تھا۔ اب اللہ نے عدالت کی کرسی پر بٹھا دیا۔ اب وہاں پر بیٹھ کر حکم نامے جاری کرتا ہے۔ میرے دوستو! یہ بات ثابت ہو گئی کہ جو سچ بولے گا، اللہ اسے فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دے گا۔ میرے دوستو، یقین بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ پر توکل نصیب ہو جائے تو نہ زمینوں کے جھگڑے باقی رہیں گے نہ دفتروں میں رشوت رہے گی، نہ دکانوں میں ملاوٹ روہے گی، نہ جھوٹ بول کر کمانا رہے گا، نہ دھوکے سے کمانا رہے گا۔ یہ چیزیں تو خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ میرے دوستو! ہم تمام چیزوں سے اپنی نگاہوں کو ہٹا کر ایک اللہ کی ذات پر لگا لیں۔ آج ماں سے پوچھیں کہ تمہارا بیٹا کیابنے گا؟ کہتی ہے، جی ڈاکٹر بنے گا، انجینئر بنے گا،

پائلٹ بنے گا۔ ہے کوئی ماں جو یہ کہے کہ میرا بیٹا مفسر بنے گا، محدث بنے گا، میرا بیٹا دین کا مجاہد بنے گا؟ میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں کان کھول کر سننا، پھر نہ کہنا کہ کسی نے کوئی بات سمجھائی نہیں تھی۔ منبر رسول پر بیٹھاہوں، اللہ کی کتاب میرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کے گھر میں بیٹھا ہوں۔ مجھے ایک بات بتائیں آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی آدمی جو عالم باعمل ہو اور وہ بھوکا پیاسا ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہا ہو؟ جب کہ پی ایچ ڈی کرنے والے انجینئرنگ کرنے والے کئی ایسے ہیں جن کو بھوکے پیاسے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ہمارا بیٹا عالم بنے گا۔ اللہ رب العزت وہاں سے رزق دیں گے جہاں سے اپنے انبیاء کرامؑ کو رزق دیا کرتے تھے۔ ’’جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…