حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی واقعہ سناتے ہیں کہ ہمارے ایک دوست سیر کے لیے سوات تشریف لے گئے۔ بیوی بچے بھی ساتھ تھے۔ ایک پہاڑ پر انہوں نے ایک خوبصورت اور گول شکل کا چمکدار پتھردیکھا۔ انہوں نے اٹھا کر دیکھا تو بہت ہی شفاف اور ملائم تھا۔ رنگ بھی بہت خوبصورت تھا۔ بچوں نے اصرار کیا کہ وہ پتھر گھر لے چلیں۔ والد نے بھی سوچا کہ چلو ڈیکوریشن کے کام آئے گا۔ سفر کی یادگار سہی، لے ہی چلتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے وہ پتھر لا کر گھر میں سجا دیا۔ دو سال بعد
وہی صاحب ایک دن اس پتھر کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہنے لگے۔ یا اللہ! تو نے یہ کیسا خوبصورت پتھر بنادیا ہے۔ اسی دوران میں وہ پتھر ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ نیچے فرش پر گرتے ہی ٹوٹ گیا۔ ایک لمحہ کے لیے انہیں افسوس تو ہوا مگر ساتھ ہی یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ پتھر کے عین درمیان میں ایک سوراخ تھا جس میں سے ایک کیڑا نکلا اور چلنے لگا۔ اب بتائیں کہ بند پتھروں میں کیڑوں کو کون روزی دیتاہے؟ یقیناً اللہ تعالیٰ دیتاہے۔ پس سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔



















































