ہارون الرشید کی بیوی ’’زبیدہ خاتون‘‘ بڑی نیک اور دین دار ملکہ تھی۔ اس کو قرآن مجید کے ساتھ اتنی محبت تھی کہ اس نے اپنے گھر میں تین سو حافظات تنخواہ پر رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے ان کی تین شفٹیں بنائی ہوئی تھیں۔ ہر شفٹ میں ایک سو حافظات ہوتی تھیں۔ ان حافظات کو محل کے مختلف کمروں، برآمدوں اور کونوں میں بٹھا دیا جاتا تھا اور ان کا ام اپنی شفٹ میں بیٹھ کر قرآن مجید پڑھنا ہوتا تھا۔ اس طرح پورے محل میں ہر وقت
سو حافظات کے قرآن پڑھنے کی آواز آتی تھی۔اس خاتون کو پتہ چلا کہ جب لوگ سفر حج پر جاتے ہیں تو ان کو راستے میں پانی نہیں ملتا، اس لیے وہ اپنے ساتھ سواریوں پر پانی لاد کر جاتے ہیں، جب کبھی پانی ختم ہو جاتا ہے تو بسااوقات لوگ پیاسے رہتے ہیں، بلکہ بعض اوقات تو کئی لوگ فوت ہی ہو جاتے ہیں۔ ہر بیوی اپنے خاوند سے فرمائش کرکے کوئی نہ کوئی کام کرواتی ہے۔ اس نے بھی اپنے خاوند سے کہا کہ میرے دل کی تمنا ہے کہ آپ ایک نہ بنوائیں جو میدان عرفات تک پہنچے تاکہ حاجی لوگ جب اس کے قریب سے گزریں تو ان کو پانی ملتا رہے۔ ہارون الرشید نے اس کی فرمائش کو پورا کر دیا اور ایک عظیم الشان نہر بنوا دی۔ اس نہر سے ہزاروں انسانوں، حیوانوں، چرندوں اور پرندوں نے پانی پیا اور فائدہ اٹھایا۔ذرا سوچیں کہ کسی کو پانی کا ایک پیالہ پلانا کتنی بڑی نیکی ہے۔ قیامت کے دن ایک جہنمی کسی جنتی کو دیکھ کر اسے پہچان لے گا اور کہے گا کہ آپ نے مجھ سے ایک مرتبہ پانی مانگا تھا اور میں نے آپ کو پانی کا پیالہ پیش کیا تھا۔ وہ کہے گا، ہاں وہ کہے گا کہ آپ اللہ کے حضور میری شفاعت کر دیجئے۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ ایک پیالہ پانی پلانے پر وہ جنتی شفاعت کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس جہنمی کو جہنم سے نکال کر جنت عطا فرما دیں گے۔ ایک پیالہ پانی پلانے کی اللہ رب العزت کے ہاں اتنی قدر ہے۔انسان تو بالآخر انسان ہے۔ جانور کو پانی پلانا بھی بہت قیمتی ہے۔
حدیث پاک میں آیا ہے کہ ایک عورت نے اپنی پوری زندگی کبیرہ گناہوں میں گزار دی تھی۔ ایک مرتبہ وہ کہیں جا رہی تھی اس نے ایک کتے کو پیاسا دیکھا، گرمی کا موسم تھا، اس کی زبان نکلی ہوئی تھی اور پیاس کی وجہ سے وہ ہانپ رہا تھا۔ اس کے دل میں ترس آیا اور اس نے اپنے دوپٹے کے ساتھ کوئی چیز باندھی اور پانی ڈال کر اس کتے کو پلایا۔ جب کتے نے پانی پیا تو کتے کو ہوش آ گیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آ گیا۔
صرف کتے کو پانی پلانے پر اس کی زندگی کے سب کبیرہ گناہوں کو معاف فرما دیا گیا۔ اب سوچئے کہ پیاسے کو پانی پلانا کتنا بڑا عمل ہے۔ زبیدہ خاتون نے لاکھوں پیاسوں کو پانی پلایا۔ جب وہ فوت ہو گئی تو وہ کسی کو خواب میں ملی، اس نے پوچھا، زبیدہ! تیرا آگے کیا بنا؟ کہنے لگی کہ بس مجھ پر اللہ رب العزت کی رحمت ہو گئی۔ اس نے کہا، ہاں! تیرے تو کام ہی اتنے بڑے تھے، تو نے نہر بنوا کر بہت بڑا کام کیا، تیری تو بخشش
ہونی ہی تھی۔ وہ کہنے لگی کہ میری بخشش نہر کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ اس نے پوچھا، وہ کیوں؟ وہ کہنے لگی کہ جب میرا نہر والا عمل اللہ رب العزت کے سامنے پیش کیا گیا تو پروردگار عالم نے فرمایا کہ تم نے تو نہر اس لیے بنوائی تھی کہ تمہارے پاس بیت المال کا پیسہ تھا، اگر نہ ہوتا تو نہیں بنوا سکتی تھی۔ یہ کوئی ایسا کام نہیں تم مجھے بتاؤ کہ تم نے میرے لیے کون سا عمل کیا؟ وہ کہنے لگی کہ میں یہ سن کر گھبرا گئی کہ میرے
پاس تو ایسا کوئی عمل نہیں ہے۔اس گھبراہٹ میں اللہ رب العزت کی رحمت میری طرف متوجہ ہوئی اور فرمایا، ہاں تیرا ایک عمل ایسا ہے جو تم نے ہمارے لیے کیا تھا، وہ عمل یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ کھانا کھا رہی تھی، بھوک لگی ہوئی تھی، آپ نے لقمہ توڑا کہ میں اسے اپنے منہ میں ڈال لوں، منہ میں ڈالنے سے پہلے ادھر سے اذان کی آواز تیرے کانوں میں پڑی، تمہارے سر پر پوری طرح دوپٹہ نہیں تھا آدھا سر ننگا تھا، اس وقت تیرے
دل میں خیال آیا کہ اللہ کا نام بلند ہو رہا ہے، اور میرا سر ننگا ہے تم نے اپنی بھوک کو روکا، لقمہ نیچے رکھا اور اپنے دوپٹے کو ٹھیک کیا اور اس کے بعد لقمہ کھایا، تو نے لقمہ میں جو تاخیر کی یہ میرے نام کے ادب کی وجہ سے کی، بس اس کی وجہ سے تیری مغفرت کی جاتی ہے، سبحان اللہ، اللہ رب العزت تو یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری رضا کے لیے کیا گیا۔ اب یہ عمل دیکھنے میں چھوٹا سا ہے مگر چونکہ اس نے یہ اللہ رب العزت کی رضا کے لیے کیا اس لیے اللہ رب العزت کے ہاں اس کی قدر بھی زیادہ ہوئی۔



















































