اگر کوئی آدمی نیک نیتی کے ساتھ اللہ کے لیے دنیا کی کوئی قربانی دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کا بدلہ دنیا میں بھی دیں گے اور آخرت میں بھی دیں گے، حدیث پاک سے اس کی دلیل ملتی ہے، جب نبی کریمؐ ہجرت کے سفر میں تھے اس وقت آپ کے پیچھے ایک کافر آ گیا،
جس کا نام سراقہ تھا، جب اس نے آپؐ کو دیکھ لیا تو آپؐ کی دعا سے اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے، پھر نبی کریمؐ نے دعا فرمائی اور اس کے پاؤں کو زمین نے چھوڑ دیا، جب وہ جانے لگا تو ڈر تھا کہ کہیں وہ جا کر پھر نہ بتا دے، اس وقت اس نے نبی کریمؐ سے عرض کیا کہ مجھے کلمہ پڑھا دیجئے، چنانچہ نبی کریمؐ نے اسے کلمہ پڑھا دیا، لیکن اس سے پہلے نبی کریمؐ نے اس کو بشارت دے دی تھی کہ سراقہ! میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تو تیرے ہاتھوں یا تیرے بازوؤں میں کسریٰ کنگن عطا فرما دیے ہیں، اس کو نبی کریمؐ کی مخبری کرنے پر سویا دو سو اونٹوں کا انعام ملنا تھا جو کفار نے اعلان کر دیا تھا لیکن اس نے اللہ کی نسبت سے سو یا دو سو اونٹوں کے انعام کی قربانی دے دی کہ میں اس دنیاوی فائدہ کو چھوڑتا ہوں اور اب واپس جا کر ان کے بارے میں کفار کو نہیں بتاؤں گا، چنانچہ اللہ رب العزت نے اس کی اس قربانی کی قدردانی فرمائی اور دو سو اونٹوں کے بدلے میں کسریٰ جیسے بادشاہ کے کنگن اس کے بازوؤں میں عطا فرما دیے، سبحان اللہ جو بندہ اللہ کی نسبت سے دنیا کی قربانی دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا سے محروم نہیں کرتے بلکہ دنیا کو کئی گنا کرکے اس کے قدموں میں ڈال دیا کرتے ہیں۔



















































