حضرت زیدؓ کے بیٹے اسامہؓ تھے۔ نبی کریمؐ نے ان پر کتنی مہربانی فرمائی کہ ان کے بیٹے کو امیر لشکر بنا کر بھیجا۔ حالانکہ صحابہ کرامؓ میں بڑے بڑے اکابر موجود تھے لیکن یہ چھوٹی عمر میں امیر بن کے جا رہے تھے۔ اللہ کی شان کے نبی کریمؐ نے ان کے ہاتھ میں جھنڈا
پکڑایا اور انہیں لشکر کا امیر بنایا۔حضرت عمرؓ کا زمانہ تھا، کچھ صحابہ کرامؓ کو بیت المال سے کچھ ہدیہ ملا کرتا تھا، ایک مرتبہ اس ہدیے کے تعین کی ضرورت پیش آئی تو اسامہ بن زید اور عبداللہ بن عمرؓ کے نام سامنے آئے، عبداللہؓ نے نبی کریمؐ کی بہت خدمت کی۔ وہ امام المحدثین تھے اور علم میں بڑا مقام رکھتے تھے، صحابہ میں ان کا ایک مقام تھا، لوگ ان کے پاس حدیث کی روایت کے لیے آتے تھے، حضرت عمرؓ نے ان کا ماہانہ تھوڑا متعین کیا اور اسامہ بن زیدؓ کا ماہانہ زیادہ مقرر کر دیا۔ وہ بڑے حیران ہوئے۔ انہوں نے آ کر اپنے والد سے پوچھا، ابا جان! آپ نے اسامہ بن زیدؓ کا ماہانہ زیادہ مقرر کیا اور میرا کم متعین فرما دیا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے عجیب جواب دیا۔ ’’بیٹا میں نے یہ کام اس لیے کیا کہ تیری نسبت اسامہ اور تیرے باپ کی نسبت اسامہ کا باپ اللہ رب العزت کے محبوبؐ کو زیادہ محبوب تھے۔‘‘یہ تو ان کا اپنا قول ہے مگر بتانے کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ ان کے والد کو نبی کریمؐ نے اپنا بیٹا بنا لیا تھا اور ان کو قرب کی ایک نسبت مل گئی تھی اس لیے حضرت عمرؓ نے اس نسبت کا لحاظ رکھا اور انہوں نے اپنے بیٹے کی بہ نسبت ان کا ماہانہ زیادہ متعین فرما دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قدردانی ہے۔



















































