حضرت اقدس تھانویؒ سے ایک نواب صاحب بیعت ہوگئے۔ بڑے مال پیسے والے تھے۔ اس دور میں جب استاد کی تنخواہ پانچ روپے ماہانہ ہوا کرتی تھی اس نے حضرت کو ایک لاکھ روپے بھجوائے۔ حضرت نے اس کے خط کی تحریر سے محسوس کیا کہ یہ تو احسان جتلا کر پیش کر رہا ہے۔ حضرت نے منی آرڈر واپس کر دیا۔
جب منی آرڈر واپس گیا تو وہ سٹپٹا گیا۔ اس نے پھر خط لکھا کہنے لگا۔ حضرت! میں نے بیعت ہو کر آپ کو ایک لاکھ روپیہ ہدیہ پیش کیا۔ آپ کو ایسا مرید اور کہیں نہیں ملے گا۔ حضرت نے خط پڑھا اور جواب میں لکھا کہ اگر تجھ جیسا مرید نہیں ملے گا تو تجھے بھی مجھ جیسا پیر نہیں ملے گا۔ جولاکھ روپے کو ٹھوکر مار دے۔



















































