اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

جوئیں تلاش کر رہا ہے

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

ہمارے مشائخ اللہ رب العزت کی یاد میں لگے رہتے تھے۔ ان کی نظر میں انسان کی عظمت اس کے دین کی وجہ سے ہوتی تھی اور دنیا کی وجہ سے ان کے ہاں انسان کی عظمت نہیں ہوتی تھی۔ خواجہ ابوالحسن خرقانیؒ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے بزرگوں میں سے تھے۔ وہ ایک فقیر آدمی تھے۔ اللہ نے انہیں قبولیت تامہ عامہ دی تھی۔ ان کی خانقاہ پر وقت کے امیر کبیر لوگ بھی آتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے خدام کو حکم دیا

کہ آج ساری خانقاہ کی صفائی کرو۔ اس زمانہ میں چپس کے فرش تو نہیں ہوتے تھے بلکہ کچی مٹی ہوتی تھی۔ جمعہ کا دن تھا۔ اس لیے کچھ لوگ نہانے دھونے میں لگ گئے اور کچھ خانقاہ کی صفائی کرنے میں مصروف ہو گئے۔ حضرتؒ کے سر کے بال لمبے لمبے تھے۔ ان کے سر میں کھجلی سی ہونے لگی۔ سر میں کھجلی کبھی تو جوئوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور کبھی زیادہ دن نہ نہانے کی وجہ سے بھی خارش سی ہوتی ہے۔ حضرتؒ کو خارش سی محسوس ہوئی توآپ نے اپنے ایک خادم سے فرمایا کہ ذرا میرے بالوں میں دیکھو کہ جوئوں کی وجہ سے خارش ہو رہی ہے یا کسی اور وجہ سے۔ اس نے کہا، جی بہت اچھا۔ اب حضرت بیٹھ گئے اور اس خادم نے جوئیں ڈھونڈنا شروع کر دیں۔ باہر لوگوں نے جھاڑو دینا شروع کر دیا۔ خوب مٹی اڑنے لگی۔ اللہ کی شان کہ عین اسی وقت سلطان محمود غزنویؒ حضرت کی ملاقات کے لیے پہنچ گیا۔ جب مریدوں نے دیکھا کہ بادشاہ سلامت آ گئے ہیں تو وہ گھبرائے کہ یہاں تو مٹی اڑ رہی ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک بھاگا کہ میں حضرت کو بادشاہ کے آنے کی اطلاع دے دوں۔ اس نے اندر آ کر عجیب منظر دیکھا کہ حضرت تو سر جھکا کر بیٹھے ہیں اور ایک خادم آپ کے بالوں میں سے جوئیں تلاش کر رہا ہے۔ اس مرید نے خادم کو اشارہ کیا کہ وہ بادشاہ سلامت آ رہے ہیں۔ جب اسے معلوم ہوا کہ بادشاہ سلامت آ رہے ہیں تو وہ خادم بھی گھبراسا گیا اور اسی حالت میں اس نے کہا حضرت! حضرت! حضرت نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو وہ پھر کہنے لگا۔

حضرت! وہ بادشاہ سلامت آ رہے ہیں۔ حضرت یہ سن کر فرمانے لگے، اوہو، میں سمجھا کہ تیرے ہاتھ میں کوئی بڑی سی جوں آگئی ہے۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ ان کے دل میں دنیا کی کیا حقیقت ہوتی تھی۔ جب سلطان محمودغزنوی حضرت ابوالحسن خرقانیؒ کے پاس آیا تو حضرت بیٹھے رہے۔ وہ خود آ کر حضرت سے ملا۔ اس نے ملنے کے بعد ایک تھیلی میں کچھ پیسے حضرت کو ہدیہ کے طور پر پیش کیے مگر حضرت نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

اس نے پھر تھیلی پیش کی، حضرت کے پاس اس وقت ایک خشک روٹی پڑی ہوئی تھی۔ آپ نے اس تھیلی کے بدلے میں وہ خشک روٹی پیش کی اور فرمایا، اسے کھائیے، اب اس نے روٹی کا لقمہ تو منہ میں ڈال لیا لیکن خشک لقمہ اس کے گلے کے نیچے اتر نہیں رہا تھا، بلکہ وہ لقمہ اس کے گلے میں پھنس گیا۔ حضرت نے جب دیکھا کہ گلے میں لقمہ پھنس چکا ہے تو پوچھا کیا بات ہے۔ لقمہ نیچے اتر نہیں رہا؟ اس نے کہا جی ہاں نہیں اتر رہا۔ حضرتؒ نے فرمایا آپ کی یہ تھیلی بھی اسی طرح میرے گلے سے نیچے نہیں اتر رہی۔ سبحان اللہ ایسی نصیحت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…