مسلمہ بن عبدالملک ایک حاکم تھا۔ ایک مرتبہ اس نے فوج کشی کی تو دشمن نے ایک قلعہ کے اندر چھپ کر پناہ لے لی۔ مسلمانوں نے اس قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔ وہ محاصرہ کئی دن تک رہا۔ وہ لوگ اتنی مزاحمت کر رہے تھے کہ کوئی سبیل پیدا نہیں ہو رہی تھی دشمنوں میں سے ایک بندہ ایسا تھا جو دیوار کے اوپر چڑھ کر نبی کریمؐ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہا کرتا تھا۔ مسلمان چاہتے تھے کہ ہم جلدی فتح کر لیں لیکن جب یہ قریب
جاتے تو وہ دشمن تیروں کی ایسی بارش برساتا کہ یہ پیچھے ہٹ آتے۔اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ ایک دن ایک مسلمان نوجوان فوج کے ساتھ آگے گیااور تیروں کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھتا رہا۔ تیر اس کے جسم میں چبھتے رہے، وہ فقط اپنا سر بچاتا رہا۔ بالآخر وہ تیروں کی بارش میں سے گزر کر دیوار کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا، اب وہ ایسی جگہ پر بیٹھا تھا کہ جہاں تیر مارنے والوں کے تیر اس تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ وہاں سے اس نے دیوار توڑنا شروع کر دی۔ اس کو دیکھ کر کچھ اور مسلمان نوجوان بھی آگے چلے گئے اور ان سب نے مل کر بالآخر اس دیوار میں نقب لگا دی۔ جب اس میں سے چند مسلمان نوجوان اندر داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ قلعہ فتح کروا دیا۔ اب اس نوجوان کی بہادری پر پورا لشکر حیران تھا کہ اس نوجوان نے تیروں کی بارش میں جان کی پروا نہیں کی، یہ تیروں پہ تیر کھاتا رہا اور بالآخر اتنے بڑے کارنامے کا سبب بنا۔ ہر بندہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ صاحب نقب کون ہے۔جب فتح ہو گئی تو ایک موقع پر سب لوگ اکٹھے تھے۔ اس وقت امیر لشکر نے کھڑے ہو کر کہا کہ صاحب نقب کو اللہ کا واسطہ دیتاہوں کہ وہ میرے کہنے پر کھڑا ہو جائے تاکہ میں جانوں کہ وہ کون ہے۔ جب اس نے یہ کہا تو ایک نوجوان کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔ وہ کہنے لگا، امیرالمومنین! میں بھی آپ کو اللہ کا واسطہ دیتاہوں کہ آپ نے مجھے کھڑا تو کر لیا، آپ میرا نام ہرگز نہ پوچھئے گا۔ چنانچہ امیر لشکر اس کے اس عمل سے اتناخوش ہوا تھا کہ وہ دعا مانگا کرتا تھا، اے اللہ! قیامت کے دن میرا حشر بھی اس صاحب نقب کے ساتھ فرما دیجئے گا۔ سبحان اللہ وہ اتنا مخلص بندہ تھا کہ اس نے اتنا بڑا کام کر دیا اور وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ میرا نام بھی لوگوں کو معلوم ہو۔



















































