حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے گیارہ بیٹے تھے۔ آپ جب وفات پانے لگے تو ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا، عمر بن عبدالعزیز آپ نے اپنے بچوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ آپ نے کہا، وہ کیسے؟ اس نے کہا، آپ سے پہلے جو لوگ حکمران تھے، انہوں نے تو اپنی اولادوں کے لیے اتنی جائیدادیں بنا لیں،
اتنے لاکھ درہم و دینار چھوڑے اور آپ نے اپنی اولاد کے لیے کچھ بھی نہیں کیا، یہ سن کر آپ کو اس وقت غصہ آیا اور چہرے پر سرخی ظاہر ہوئی۔ آپ نے فرمایا مجھے ذرا اٹھا کر بٹھا دو۔ چنانچہ آپ کو ٹیک لگا کر بٹھا دیا گیا۔ آپؒ نے فرمایا اگر میں نے اپنی اولاد کو نیکی سکھائی ہے تو میرے پروردگار کا وعدہ ہے کہ ’’نیک لوگوں کا ولی خود پروردگار ہوتا ہے۔‘‘ میں اپنے بیٹوں کو اللہ تعالیٰ کی سرپرستی میں چھوڑ کر جا رہا ہوں اور اگر یہ نیک نہیں ہیں تو مجھے بھی پرواہ نہیں کہ ان کے ساتھ دنیا میں کیا ہوتا ہے۔ آپؒ تو وفات پا گئے مگر امام شافعیؒ یا اسی طرح کی کوئی اور بزرگ شخصیت تھی وہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ پہلے والے حکمران جنہوں نے اپنی اولادوں کے لیے لاکھوں درہم و دینار چھوڑے، ان کی اولاد کو دیکھا کہ وہ جامع مسجد کے دروازے پر بھیک مانگ رہی تھی اور میں نے عمر بن عبدالعزیزؒ کے بیٹوں کو دیکھا کہ ان کے گیارہ بیٹے مختلف علاقوں کے گورنر بنے ہوئے تھے کیوں کہ لوگوں کو ان سے بہتر بندہ ملتا کوئی نہیں تھا۔



















































