احمد بلگرامیؒ ایک دن وضو کر رہے تھے، وضو کرنے کے بعد جب اٹھے تو نقاہت اور کمزوری کی وجہ سے نیچے گر گئے۔ جو شاگرد وضو کروا رہا تھا اس نے پوچھا، حضرت! کیا ہوا ان کی زبان سے نکل گیا، میں تین دن سے فاقے سے ہوں، اس کمزوری کی وجہ سے چکر آیا اور میں گر گیا۔
وہ شاگرد ان کو چھوڑ کر کھانا لینے چلا گیا۔ کھانا لا کر اس نے عرض کیا، حضرت! کھانا کھا لیجئے۔ حضرت نے فرمایا میں یہ کھانا نہیں کھائوں گا، اس نے پوچھا، کیوں؟ فرمایا: اس لیے کہ جب میں نے تمہیں بتا دیا کہ میں تین دنوں سے فاقے سے ہوں اورتم چلے گئے تو میرے دل میں خیال آیا کہ ممکن ہے کہ تم کھانے کی کوئی چیز لے کرآئو گے۔ یہ طمع مخلوق کے ساتھ ہے، اس کو اشراف نفس کہتے ہیں۔ یہ بھی ماسوا کے ساتھ طمع ہے، میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا اور میں اپنی امیدیں فقط اللہ کے ساتھ رکھتا ہوں، چنانچہ انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا مگر وہ شاگرد بھی اتنا ہونہار تھا کہ جب حضرت نے انکار کر دیا تو کہنے لگا، حضرت! اچھا آپ کھانا نہیں کھاتے تو میں کھانا لے جاتا ہوں، وہ کھانا لے کر چلا گیا، وہ پانچ دس منٹ نظر سے اوجھل رہا اور اس کے بعد پھر واپس آ گیا اور عرض کرنے لگا، حضرت! اب تو آپ کے دل میں طمع ختم ہو گئی ہے، اب میں دوبارہ کھانا لے آیا ہوں، آپ قبول فرما لیں، اب حضرت نے وہ کھانا قبول فرما لیا۔ پتہ چلا کہ ہمارے مشائخ ہر کام اللہ رب العزت کی رضا کے لیے کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ بندے کی نیت کے مطابق معاملہ فرما دیتے ہیں۔



















































