ایک بادشاہ کے سو مٹکے شراب کے جارہے تھے۔ ایک اللہ والے کو پتہ چلا تو ان کو غصہ آ گیا۔ چنانچہ انہوں نے مٹکے توڑنا شروع کر دیے۔ انہوں نے ننانوے مٹکے توڑ کر ایک چھوڑ دیا۔ جب بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے انہیں گرفتار کروا لیا۔ اس نے پوچھا، تم نے مٹکے کیوں توڑے؟ وہ کہنے لگے، جب مجھے پتہ چلا کہ ان مٹکوں میں شراب ہے تو میری غیرت نے گوارا نہ کیا کہ تم مسلمان ہو اور شراب پیتے ہو۔ اس لیے میں نے ان کو توڑ دیا۔ اس نے کہا، اچھا ننانوے
مٹکوں میں تو غیرت کام آئی لیکن سوویں مٹکے میں غیرت کیوں نہ کام آئی؟ فرمانے لگے، ننانوے تک میں توڑتا چلا گیا، جب ننانوے کا مٹکا توڑ رہا تھا تو میرے دل میں خوشی کی ایک لہر پیدا ہوئی کہ دیکھو میں نے کتنا بڑا کام کر لیا۔ پھر میں نے سوچا کہ اب تک کام اللہ کے لیے کیا تھا اور اگر اب اگلا مٹکا توڑوں گا تو وہ اپنے نفس کی وجہ سے توڑوں گا اس لیے سوواں چھوڑ دیا۔ جب بادشاہ نے یہ سنا تو ان کو سزا دینے کے بجائے ویسے ہی آزاد کر دیا۔



















































