شیخ الحدیث حضرت زکریاؒ نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بزرگ دریائے جمنا کے کنارے رہتے تھے، ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا، جی دریا کے دوسرے کنارے میرا ایک کام ہے لیکن دریا کے اندر طوفان بہت ہے، جس کی وجہ سے کشتی کے ذریعے جانا مشکل ہے، اب میں کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا: جائو اور دریا کے کنارے کھڑے ہو کر کہہ دو کہ تجھے اس شخص کی طرف سے پیغام ہے
جس نے کبھی اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری نہیں کی اور نہ کبھی کھانا کھایا ہے، کہ تم مجھے راستہ دے دو۔ اب وہ بندہ تو یہ سن کر چلا گیا اور جا کر دریا کو وہی پیغام دیا۔ دریا کی طغیانی کم ہو گئی اور اس شخص نے آرام سے دریا پار کر لیا۔ ادھر بیوی صاحبہ نے بھی شوہر کی یہ بات سن لی تھی اور ماشاء اللہ سات بچے بھی تھے، وہ بڑی تلملائی کہ یہ عجیب ہے مجھے رسوا کر رہا ہے، وہ بزرگ جب اپنے گھر میں آئے تو وہ آگے غصے سے بھری بیٹھی تھی۔ کہنے لگی کہ یہ جو تو کھا کھا کر موٹا ہو رہا ہے، اس کو تو تو جان اور تیرا خدا لیکن یہ بتا کہ تو نے جو میرے ساتھ کبھی ملاقات نہیں کی تو یہ سات بچے کہاں سے ہو گئے۔ اس پر انہوں نے اس کو وضاحت کے ساتھ بات سمجھائی کہ دیکھ میں نے جب بھی کھانا کھایا ہمیشہ اس نیت سے کھایا کہ اللہ رب العزت کے محبوبؐ نے فرما دیا کہ تیری جان کا تجھ پر حق ہے، اس لیے اپنی جان کا حق ادا کرنے کے لیے کھانا کھایا نفس کی لذت کی وجہ سے کبھی نہیں کھایا۔ اسی طرح اگرچہ میں سات بچوں کا باپ ہوں مگر بیوی سے ملاقات کرتے ہوئے میرے دل میں ہمیشہ یہ نیت ہوتی تھی کہ شریعت نے مجھ پر بیوی کے حقوق عائد کیے ہیں۔ لہٰذا میں اپنی بیوی کا حق ادا کر رہا ہوں، میرا مقصد فقط نفس کی لذت اور اپنی خواہشات کو پورا کرنا نہیں ہوتا تھا، اگرچہ میں نے اتنی بار اس کا حق ادا کیا مگر یہ ایسے ہی تھا جیسے میں نے اپنے لیے کیا ہی نہیں۔



















































