اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

قبر میں عذاب الٰہی کے مناظر

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی نے کہا کہ یہ واقعہ میں نے ایک مرتبہ ایک ملک میں سنایا۔ اس محفل میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور سائنسدان قسم کے لوگ بلائے گئے تھے۔ محفل کے اختتام پر ایک سائنسدان صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے، حضرت! کیا آپ نے یہ واقعہ کسی کتاب میں پڑھا؟ میں نے کہا، جی ہاں، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا یہ واقعہ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریاؒ نے فضاء صدقات میں بھی نقل فرمایا ہے۔

جب ایسے مستند بزرگ کوئی واقعہ نقل کریں تو وہ صحیح ہوتا ہے۔وہ کہنے لگے، حضرت! کیا آپ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہیں گے؟ میں نے کہا، بھئی آپ کا کیا مطلب ہے؟ وہ کہنے لگے، حضرت! یہ چیز یہاں ایک جگہ آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہے۔ میں اس کی بات سن کر بڑا حیران ہوا۔ وہ کہنے لگے، حضرت! آپ تین گھنٹے فارغ کریں اور میں آپ کو لے جا کر یہ سب منظر آنکھوں سے دکھاؤں گا۔ مجھے اور حیرانی ہوئی میں نے کہا، ٹھیک ہے کل چلیں گے۔اگلے دن وہ ڈاکٹر صاحب وقت پر ہی آ گئے اور ہمیں ایک میوزیم (عجائب گھر) میں لے گئے۔ اس عجائب گھر کے اندر ان کافروں نے حنوط شدہ لاشیں رکھی ہوئی تھیں۔ اس سٹیج پر بیٹھ کر میں یہ بات بڑی ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں، میں باوضو ہوں، مسجد میں بیٹھا ہوں اور سو فیصد صحیح بات کہہ رہا ہوں، انہوں نے اس عجائب گھر میں شیشے کے کمرے بنائے ہوئے تھے۔ جب پہلے کمرے میں گئے تو اس دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ جب انسان مرتا ہے تو اس کی حالت یہ ہوتی ہے۔ جب ہم اندر گئے تو ہمیں ایک لاش نظر آئی جس پر انہوں نے کیمیکل لگا کر اسے ہر چیز سے بچایا ہوا تھا۔ اس کو حنوط شدہ لاش کہتے ہیں۔ انگلش میں اس کو Mummy (ممی) کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی بندہ مرتا ہے تو وہ اس حالت میں ہوتا ہے۔ ہم نے اس کو کیمیکل لگا کر یہاں رکھ دیا ہے،

ہم اس لاش کو دیکھ کر حیران ہوئے۔پھر وہ دوسرے کمرے میں لے کر گیا۔ وہاں ایک پلیٹ پر لکھا ہوا تھا کہ یہ آدمی مرا، ہم نے اسے قبر میں ڈالا اور چند دنوں کے بعد ہم نے قبر کو کھولا اور جس حالت میں اس کی لاش کو پایا، ہم نے اسی حالت میں اس پر کیمیکل چھڑک کر یہاں رکھ دیا۔ ہم نے جب اس بندے کو دیکھا تو اس کا باقی سارا جسم ٹھیک تھا مگر اس کی دونوں آنکھوں کے ڈھیلے ڈھلک کر اس کے رخساروں پر آ چکے تھے اور ان میں کیڑے پڑ چکے تھے۔

معلوم ہوا کہ قبر کے اندر بندے کے جسم میں جو سب سے پہلی تبدیلی آتی ہے، وہ یہ ہے کہ آنکھوں کے ڈھیلے ڈھلک کر رخساروں پر آ جاتے ہیں، اور ان میں کیڑے پڑ جاتے ہیں۔ جن آنکھوں سے غیر اللہ کو محبت کی نظر سے دیکھتا تھا ان پر سب سے پہلے کیڑے چمٹتے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے تیری آنکھیں قابو میں نہیں تھیں تو غیر اللہ کو چاہتوں اور محبتوں سے دیکھتا تھا مگر یہ حق تیرے پروردگار کا تھا لیکن تجھے غیر محرموں کے چہرے اچھے لگتے تھے۔

تو جو آنکھیں غیر محرم کو محبت کی نظر سے ہوس کے ساتھ دیکھتی پھرتی ہیں قبر میں سب سے پہلے انہی آنکھوں کو کیڑے کھائیں گے۔ اس کے بعد ہم تیسرے کمرے میں گئے۔ اس کمرے میں پڑی ہوئی لاش کی آنکھوں کے ڈھیلوں کو بھی کیڑوں نے کھا لیا تھا مگر اب اس کے ہونٹوں کو بھی کیڑے کھا چکے تھے۔ صرف دانتوں کی بتیسی نظر آ رہی تھی۔ اس کے علاوہ باقی لاش ٹھیک تھی۔ تو دوسری تبدیلی یہ آئی کہ اس کے منہ میں کیڑے پڑ گئے اور کیڑوں نے اس کے ہونٹوں کو کھا لیا۔

جس کی وجہ سے دور سے اس کے دانت نظر آ رہے تھے غلط محبت بھری باتیں کرتا ہے اب دوسرے نمبر پر اس زبان کو کیڑوں نے کھا لیا۔پھر ہم چوتھے کمرے میں گئے۔ ہم نے وہاں دیکھا کہ آنکھوں سے ڈھیلے نکلے ہوئے تھے اور ان کو کیڑوں نے کھا لیا تھا اور زبان کو بھی کیڑوں نے کھا لیا تھا۔ اس کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ اس کا پیٹ پیالے کی طرح بنا پڑا ہے اور اس پیالے کے اندر کیڑے پڑے ہوئے ہیں۔ جس پیٹ میں حرام ڈالتا تھا اب اس میں کیڑے پڑ چکے تھے اور اسے کھا رہے تھے۔

پھر اگلے کمرے میں دیکھا کہ کیڑوں نے پھیلنا شروع کردیا تھا۔ بالآخر ایک ایسے کمرے میں گئے جہاں کیڑوں نے جسم کا پورا گوشت کھا لیا تھا فقط ہڈیاں موجود تھیں۔ پھر اگلے کمروں میں ہڈیوں کے بوسیدہ ہونے کی حالت کا مشاہدہ کیا اور جب ہم آخری کمرے میں پہنچے تو وہاں لکھا ہوا تھا کہ جب ہم نے اس قبر کو کھودا تو فقط ریڑھ کی ہڈی کا اتنا سا حصہ باقی تھا، باقی سب ہڈیوں کو بھی مٹی نے کھا لیا تھا۔یہ سب معاملات انسان کو قبر کے اندر پیش آتے ہیں۔

ہماری کتابوں میں لکھا ہوا تھا اور اس ملک کے کافروں نے قبر میں جو تبدیلی دیکھی اسے حنوط شدہ لاشوں کی صورت میں لوگوں کے لیے Display (نمائش) بنایا ہوا تھا۔ مگر وہ کونسی لاشیں ہوتی ہیں جن کو مٹی اور کیڑے کھاتے ہیں؟ یہ ان لوگوں کی لاشیں ہوتی ہیں جو گناہ کرتے ہیں چونکہ ان کے اندر گناہوں کے اثرات ہوتے ہیں اس لیے مٹی اور کیڑے ان کی لاشوں کو کھاتے ہیں اور جو لوگ گناہوں سے بچتے ہیں اور اللہ کے حضور پیش ہوتے ہیں،

چونکہ انہوں نے اپنے علم اور ارادے سے گناہ نہیں کیا ہوتا اس لیے ان کی لاشیں قبروں میں محفوظ رہتی ہیں، انبیائے کرام کے بارے میں تو حدیث پاک میں آ گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرامؑ کے جسموں کو زمین پر حرام کر دیا، اسی طرح جو انبیاء کے وارث ہوتے ہیں اور وہ گناہوں سے اپنے جسموں کو بچاتے ہیں، چونکہ ان کے جسموں میں گناہوں کی نجاست نہیں ہوتی اس لیے جب ان کے جسموں کوقبروں میں رکھ دیتے ہیں تو

اللہ تعالیٰ کی زمین ان کے جسموں کو بھی نہیں گلا سکتی اور کیڑے بھی ان کے جسموں میں نہیں پڑ سکتے۔ اسی لیے بعض اولیاء اللہ کے جسم کو بھی نہیں گلا سکتی اور کیڑے بھی ان کے جسموں میں نہیں پڑ سکتے۔ اسی لیے بعض اولیاء اللہ کے جسم قبرستان کی کھدائی کے وقت بالکل صحیح سالم پائے گئے کیونکہ ان کے جسم میں گناہوں کے اثرات نہیں تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…