حضرت لاہوریؒ ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ حضرت مدنیؒ حج کے سفر سے واپسی پر ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ ان کے قریب ایک ہندو جنٹلمین بھی بیٹھا ہوا تھا۔ دوران سفر اس کو بیت الخلاء جانے کی ضرورت پیش آئی اس نے جا کر دیکھا تو بیت الخلاء بہت گندہ تھا۔ چنانچہ وہ جلد ہی واپس آ گیا۔ کسی نے پوچھا کہ آپ گئے تھے اور جلد ہی واپس آ گئے۔ اس نے کہا لوگ گند مچا دیتے ہیں، بیت الخلاء میں صفائی ہی نہیں کرتے،
مجھے ضرورت تو تھی لیکن بیت الخلاء اتنا گندہ تھا کہ میں اس کو استعمال نہیں کر سکا۔ یہ بات کرکے وہ ہندو بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد شیخ الحدیث شیخ طریقت حضرت مدنیؒ اٹھے اور ٹرین کے بیت الخلاء میں تشریف لے گئے اور سارے بیت الخلاء کو صاف کر دیا۔ جب صاف کرنے کے بعد واپس آ کر بیٹھے تو کہنے لگے کہ میں بیت الخلاء استعمال کرنے کے لیے گیا تو ابھی تو بڑا صاف تھا۔ یہ اس لیے کہ وہ استعمال کر لے۔ اب جب ہندو دوبارہ گیا تو اس نے اس کو صاف پایا اس نے اسے استعمال کیا اور واپس آ کر کہنے لگا جی واقعی کسی نے صاف کر دیا تھا۔ لوگوں کو تجسس ہوا کہ آخر اس کو کس نے صاف کیا۔ وہاں ایک عالم اور بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا نام خواجہ نظام الدین تھا۔ انہوں نے حضرت مدنیؒ کے بارے میں غائبانہ طور پر کچھ باتیں سنی ہوئی تھیں اور وہ ان کی مخالفت کیا کرتے تھے۔ انہوں جب کھود کرید کی تو پتہ چلا کہ حضرت مدنیؒ نے بیت الخلاء صاف کیا ہے۔ یہ دیکھ کر اس کھدر پوش فقیر کے سامنے خواجہ نظام الدینؒ نے اپنے ہاتھ جوڑ دیے اور کہنے لگے، جی آپ مجھے معاف کر دیں، میں نے عمر بھر آپ کی غیبت کی، مجھے آپ کی عظمتوں کا پتہ نہیں تھا، آج پتہ چلا کہ آپ کتنے عظیم انسان ہیں کہ ایک ہندو کی خاطرآپ نے ایسا کام کیا ہے۔ حضرت مدنیؒ نے فرمایا کہ میں نے تو اپنے محبوبؐ کی سنت پر عمل کیا ہے لوگ حیران ہو کر پوچھنے لگے وہ کیسے؟ تو فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریمؐ کی خدمت میں ایک یہودی آیا، اس کو بھوک لگی ہوئی تھی،
نبی کریمؐ نے اس کو کھانا دیا تو اس نے کھانا زیادہ کھا لیا۔ رات کو نبی کریمؐ نے اس کو سونے کے لیے بستر دیا۔ پیٹ نرم ہونے کی وجہ سے قدرتاً اس کی ایسی کیفیت ہوئی کہ اسی بستر میں اس کا پاخانہ خارج ہو گیا۔ وہ صبح اسی حالت میں اٹھ کر وہاں سے چل دیا۔ جب وہ کچھ دور پہنچا تو اسے یاد آیا کہ وہ جلدی میں اپنا کچھ سامان وہاں بھول گیا ہے۔ چنانچہ جب وہ سامان لینے کے لیے واپس آیا تو دیکھا کہ نبی کریمؐ اپنے ہاتھوں سے اس بستر کو دھو رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں سے آنسو نکل آئے اور اس نے کہا آپ کو اللہ نے وہ خلق عطا کیے جو خلق دنیا میں کہیں کسی کے پاس نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا آپ مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان بنا دیجئے تو حضرت مدنیؒ نے فرمایا کہ میرے آقاؐ نے مہمان کی خاطر یہ عمل کیا تھا اور میں نے بھی اپنے آقاؐ کی سنت پر عمل کیا ہے تو یہ مخلص لوگ تھے۔



















































