عبداللہ بن مبارکؒ کے والد کا نام مبارک تھا۔ وہ ایک آدمی کے غلام تھے۔ اس نے ان کو اپنے باغ کی نگرانی پر رکھا ہوا تھا۔ بعض کتابوں میں انار کا باغ آیا ہے اور بعض میں آم کا باغ۔ بہرحال پھلوں کا باغ تھا۔ ان کو وہاں کام کرتے تین سال گزر چکے تھے۔ ایک دن باغ کا مالک وہاں آ پہنچا۔
اس نے ان سے کہا، بھئی! مجھے پھل کھلائو۔ وہ ایک درخت سے پھل لے کر آئے۔ جب اس نے کاٹا اور کھایا تو کھٹا تھا۔ مالک نے کہا، آپ تو کھٹا پھل لے آئے ہیں وہ پھر گئے اور دوسری جگہ سے پھل اتار کر لے آئے، جب کاٹا تو وہ بھی کھٹا تھا، جب تیسری دفعہ لائے تو پھربھی کھٹا۔ مالک بڑا ناراض ہوا۔ اس نے کہا، تمہیں باغ کی رکھوالی کرتے ہوئے تین سال گزر چکے ہیں لیکن تمہیں اب تک پتہ نہیں چلا کہ کس درخت کا پھل شیریں ہے اور کس کا پھل کھٹا ہے۔ جب وہ خوب ناراض ہوا حضرت مبارکؒ نے بالآخر کہا، جی آپ نے مجھے باغ کی نگرانی کے لیے رکھا تھا، پھل کھانے کے لیے تو نہیں رکھا تھا۔ میں نے تین سال میں کبھی کوئی پھل نہیں کھایا اس لیے مجھے نہیں پتہ کہ کس درخت کا پھل کھٹا ہے اور کس درخت کا پھل میٹھا ہے، اس مالک کو ان کی یہ بات اتنی اچھی لگی کہ اس نے ان کو آزاد کر دیا۔ پھر اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ ان کا نکاح بھی کر دیا اور ان کو اس باغ کا مالک بھی بنادیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیٹا عطا فرمایا جس کا نام انہوںنے عبداللہ رکھا اور پھر وہ اپنے وقت میں عبداللہ بن مبارک بنا۔ سبحان اللہ یہ ہوتا ہے اخلاص۔



















































