کراچی کے ایک صاحب کا حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی سے تعلق تھا۔ ایک مرتبہ وہ میاں بیوی دونوں ملنے آئے وہ کہنے لگے۔ حضرت! ہماری شادی کو چار سال ہو چکے ہیں اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب ہمارا گزارہ مشکل ہے چونکہ ہم دونوں آپ سے بیعت ہوئے ہیں حاضر اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ سے اجازت بھی لے لیں اور نصیحت بھی لے لیں تاکہ آپ ناراض نہ ہوں کہ تم نے تو بتایا ہی نہیں، یہ میاں صاحب کے الفاظ تھے۔اب انہوں نے آ کر کچھ باتیں تو بتائیں،
ایسے حالات میں پیروں کا کام یہ ہوتا ہے کہ Read in between the line (بین السطور اصل حقیقت کو سمجھیں) کچھ تو مرید آ کر بتاتے ہیں اور کچھ ان کو پڑھنا پڑتا ہے کہ اندر کی بات کیا ہے۔ خیراندر کی بات کا پتہ چل گیا کہ ان دنوں خاوند کا کاروبار کچھ مشکل سا بناہوا ہے اور وہ جب گھر آتے ہیں اور جب وہ گھر آتے ہیں تو ان کا موڈ بنا ہوتا ہے۔ ایسی حالات میں تو گھر میں محبت والا ماحول پیدا نہیں کیا جا سکتا۔آپ جس فیصلہ کن نتیجے پر پہنچے ہیں اس کے لیے آپ چھ مہینے انتظار کریں۔ وہ کہنے لگے جی بہت اچھا۔ میں نے کہا خاوند یہ وعدہ کرے کہ وہ ایک کام کرے گا۔ اس نے کہا، جی حضرت! میں ضرورکروں گا۔ میں نے کہا کہ وعدہ یہ لینا ہے کہ آپ جب بھی گھر آئیں گے، آپ اپنی اہلیہ کو دیکھ کر مسکرائیں گے، ان کو یہ چھوٹی سی بات نظر آئی۔ وہ کہنے لگا۔ جی حضرت! بہت اچھا۔ وہ اس وقت اس بات کی حقیقت کو نہ پا سکے۔ اب بتائیں کہ بیوی انتظار میں ہو، مل کر کھانا کھانا چاہتی ہو، خاوند کے لیے دروازہ کھولے اور خاوند کی اس پر نظر پڑے اور وہ مسکرائے تو بہاریں شروع ہو جاتی ہیں یا نہیں۔میں نے ان کو چھ مہینے کی مہلت دی تھی۔ انہوں نے اس نصیحت پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ چھ مہینے تو کیا ایک مہینے کے بعد فون آیا کہ حضرت! جتنی محبت کی زندگی ہم اب گزار رہے ہیں۔ ہم نے اس کے بارے میں کچھ سوچا بھی نہیں تھا۔ ذرا سوچئے کہ ایک مسکراہٹ نہ ہونے کی وجہ سے دونوں کی زندگی تلخ ہو کر رہ گئی تھی۔ جہاں نبی کریمؐ کی ایک سنت کے چھوٹنے پر گھر اجڑنے کی نوبت آ رہی تھی، وہاں وہی سنت زندہ کرنے پر گھر جنت کا منظر پیش کرنے لگا۔



















































