حضرت اقدس تھانویؒ نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک آدمی کی بیوی سے غلطی ہو گئی۔ اتنابڑا نقصان تھا کہ اگر وہ چاہتا تو اسے طلاق دے دیتا۔ کیونکہ وہ حق بجانب تھا لیکن اس نے اسے اللہ کی بندی سمجھ کر معاف کر دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد اس کی وفات ہو گئی۔ کسی نے اسے خواب میں میں دیکھا تو اس سے پوچھا، سناؤ بھئی! آگے کیا بنا۔ کہنے لگا کہ بس اللہ تعالیٰ نے مجھ پر مہربانی فرما دی اور میرے
گناہوں کو معاف کر دیا۔ اس نے پوچھا، کس وجہ سے آپ کی معافی ہوئی؟ وہ کہنے لگا کہ ایک ایسی بات تھی جو میں بھول ہی گیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ ایک مرتبہ میری بیوی سے کوئی غلطی ہو گئی تھی، میں اگر چاہتا تو سزا دیتا۔ طلاق دے دیتا، مگر میں نے اسے اللہ کی بندی سمجھ کر معاف کر دیا۔ پروردگار نے کہا، تو نے اسے میری بندی سمجھ کر معاف کر دیا تھا آج میں تجھے اپنا بندہ سمجھ کر معاف کر دیتا ہوں۔



















































