حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی ایک دفعہ روس میں سفر کر رہے تھے۔ مولانا عبداللہ اور دوسرے حضرات رفقاء سفر تھے، ٹرین میں سفر کر رہے تھے، کہ ایک آدمی آیا، محمد انعام الحق قاسمیسے بھی ملا اوروں سے بھی ملا، داڑھی رکھی ہوئی تھی،
پھر ساتھیوں سے باتیں کرنے لگا، جب وہ چلا گیا تو حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی نے ساتھیوں سے پوچھا، کیا باتیں کر رہا تھا، کہنے لگے کہ آپ کے متعلق پوچھ رہا تھا کہ کون ہے؟ ہم نے کہا کہ عالم ہیں، پیر ہیں، کہاں سے آئے ہیں؟ بتایا گیا کہ پاکستان سے تشریف لائے ہیں۔ کہنے لگا، آپ بھی رشین ہیں، میں بھی رشین ہوں آپ لوگ اس کو دھوکہ دو، اس کو کہیں باہر باہر پھراتے رہو، اس کا سارا پیسہ خرچ کروا دو، پھر یہ خود بخود یہاں سے چلا جائے گا، ہمیں ان لوگوں سے کیا فائدہ ہے؟ اس کو یہیں سے ٹرخا دو تاکہ یہاں کوئی دین اسلام کا کام نہ کرسکے، اس قسم کے ذاتی تجربات اور مشاہدات فقیر کو کئی مرتبہ ہوئے ہیں، اب بات سمجھ میں آئی ہے کہ ان کے دلوں میں کیا غیض و غضب کی صورت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: قل موتو ابغیظکم ’’تم مر جاؤ اپنے غصے میں‘‘ کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم ان یقولون الا کذبا اور قد بدت البغضاء من افواھھم وما تخلفی صدورھم اکبر زبان سے باتیں کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں اتنا کچھ اسلام کے خلاف چھپا ہوا ہوتا ہے۔



















































